Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
131 - 627
جمعے ادا کرنے سے افضل ہے اورمیری اس مسجد میں رمضان کا ایک مہینہ گزارنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار ماہ رمضان گزارنے سے افضل ہے۔‘‘(شعب الإیمان، الخامس والعشرین وھو باب فی مناسک الحج، فضل الحج والعمرۃ،  ۳/ ۴۸۶، حدیث:۴۱۴۷) سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمََنے فرمایا : آدمی کا اپنے گھر میں نَماز پڑھنا ایک نَماز کے برابر ہے اور محلے کی مسجد میں نَماز پڑھنا پچیس نَمازوں کے برابر ہے اورجامع مسجد میں نَماز پڑھنا پانچ سو نَماز وں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ اور میری مسجد(یعنی مسجد ِ نبوی)میں نَماز پڑھنا پچاس ہزارنَمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نَمازپڑھنا ایک لاکھ نَمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ماجاء فی الصلاۃ فی المسجد الجامع،۲/ ۱۷۶،حدیث:۱۴۱۳)
	ایک روایت میں ہے کہ بَیْتُ الْمَقْدِس میں ایک نَماز پڑھنا عام مساجد میں پانچ سو نَمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ الترغیب والترہیب، کتاب الحج، باب الترغیب فی الصلاۃ فی المسجد الحرام و مسجد المدینۃ، ۲/۱۴۰، حدیث:۱۰)
	  نور کے پیکرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  حضرتِ سَیِّدُناسلیمان بن داؤد  عَلَیْہِمَا السَّلَام(جب بَیْتُ الْمَقْدِس کی تعمیر سے فارغ ہو ئے توانہوں ) نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے ایسی بادشاہت کا سوال کیا جو اِن کے بعد کسی اور کو حاصل نہ ہو اور وہ اسکی بادشا ہت کا مَظْہَر ہو او ر یہ سوال کیا کہ اس مسجد میں جو بھی نَماز کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ پھر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ’’ دو چیزیں تو انہیں عطافرمادی گئیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا فرمادی گئی ہوگی۔‘‘ 			    (مسند امام احمد، ۲/۵۸۹، حدیث:۶۶۵۵، بتغیر قلیل)
مسجدِ قُباء میں نماز کا ثواب
	 فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’ مسجد قباء میں ایک نَماز پڑھنا ایک عُمرہ کے برابر ہے ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ماجاء فی الصلاۃ فی مسجد قبائ، ۲/۱۷۵، حدیث:۱۴۱۱)فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی