Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
130 - 627
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قُربت کی عظیم سعادت حاصل تھی،میرے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحُد ( پہاڑ) جتنا سونا خیرات کرے تو ان( صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)کے نہ ایک مُد کو پہنچے نہ آدھے کو۔(بخاری، کتاب المناقب، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا، ۲/ ۵۲۲، حدیث:۳۶۷۳)
مُدْ کی مقدار کتنی ہے؟ 
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت  مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’چارمُدْ کا ایک صاع ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے چار سیر کا، تومُد ایک سیر آدھ پاؤ ہوا، یعنی میرا صحابی قریباً سوا سیر جَو خیرات کرے اور ان کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اس کا سونا قربِ الٰہی اور قبولیت میں صحابی کے سوا سیر کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ہی حال روزہ ،نماز اور ساری عبادات کا ہے، جب مسجد نبوی کی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے پچاس ہزاردرجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔ تو جنہوں نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قرب اور دیدار پایا اُن کا کیا پوچھنا اور ان کی عبادات کا کیا کہنا۔‘‘  (مراٰۃ المناجیح ، ۸/ ۳۳۵)				  	 جس طرح اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے اسی طرح بعض مقامات اوراوقات بھی ایسے ہیں کہ ان میں کئے گئے نیک اعمال کا وزن بڑھ جاتا ہے ۔
مسجد حرام میں پڑھی جانے والی نمازوں کا ثواب
	شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’مسجد حرام میں ایک نَماز پڑھنا ایک لاکھ نَمازیں پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘  (مسند امام احمد، ۵/۴۵۲، حدیث: ۱۶۱۱۷)
 مسجد نبوی اور اقصیٰ میں نیک اعمال کاثواب 
	فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:’’ میری اس مسجد میں نَماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز یں پڑھنے سے افضل ہے اور میری اس مسجد میں جمعہ ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار