حدیثِ مذکور میں نیکی وگناہ کا ذکر ہوا ،مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نیکی اور گناہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
نیکی و گناہ کی تعریف: نیکی ہر وہ عمل ہے جو ثواب کا باعث ہو اور گناہ ہر وہ عمل ہے جو عذاب کا سبب ہے ۔ لہٰذا ممنوعہ وقتوں میں نماز پڑھنا گناہ ہے اور حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نمازیں یا جان فِدا کردینا ثواب ہے۔ کبھی قضا نیکی ہوجاتی ہے اور ادا گناہ ۔(مراۃ المناجیح، ۳/۳۸۴) مولائے کائنات مولیٰ مشکل کُشاعلی ا لمرتضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیم نے اپنی نمازِ عصر حضورنبی ٔکریم،رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام پر قربان کر دی اور یارِ غار، عاشق ِاکبر حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی جان حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان کردی۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ان دو واقعوں کو اشعار کی صورت میں یوں بیان فرماتے ہیں :
مولیٰ علی نے وَارِی تِری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطَر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جان اُس پہ دے چکے اور حفظِ جاں توجانِ فُروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تو نے اُن کو جان اُنہیں پھیر دی نماز پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فَرائض فُروع ہیں اَصْلُ الاُصُول بَندَگی اُس تَاجْوَر کی ہے
ایک ہی نیکی پر مختلف ثواب کیوں ؟
سوال :کبھی ایک نیکی پر دس کا ثواب کبھی سات کبھی اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب :اس کی ایک توجیہ یہ ہے کہ ثواب میں یہ فرق عامل کی نیت اورعمل کے موقع ومحل کی وجہ سے ہے۔ جس کے عمل میں جتنا اخلاص زیادہ ہو گا اسے اتنا ہی زیادہ اَجر ملے گا۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا سَوا سیر جَو خیرات کرنا ہمارے پہاڑوں برابر سو نا خیرات کرنے سے افضل ہے کیونکہ ان کا اخلاص بہت اعلیٰ درجے کا تھا، انہیں رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی