Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
128 - 627
(3)حدیثِ نَفْس: جس چیز کا خیال دل میں آیا ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کے لئے منصوبہ بنائے۔
(4)ھَمّ: یہ ہے کہ دل میں کسی چیز کا خیال آیاغالب جانب اسے حاصل کرنے کی ہو اورضَرَر ونقصان کے خوف کی وجہ سے مغلوب سا خیال اسے نہ کرنے کا ہو۔
 (5)عَزْم:’’جب مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور اپنے نفس کو اس کے حصول پر آمادہ کر کے اس چیز کے حصول کا پختہ ارادہ کر لے تو یہ عزم ہے ۔ ھَاجِس، خَاطِر، حدیثِ نَفْس اور ھَمّ اگر گناہ کا ہو تو مؤ اخذہ نہیں ، ہاں نیکی کے ھمّ میں اجر ہے اور عَزْم اگر گناہ کا ہے تواس پر مواخذہ ہے اگرچہ گناہ نہ کر سکے۔اسی طرح نیکی کے عَزْمپر ثواب ہے اگرچہ کسی وجہ سے نیکی نہ کر سکے۔     (حاشیۃ الصاوی، پ۳ ، البقرۃ، تحت الایۃ: ۲۸۵، ۱/۲۴۳ )
	اِن پانچ مراتب کو اس مثال سے سمجھئے مثلاََ ’’کسی کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ چوری کرے تو یہ خیال ھَاجِس ہے، اگر یہ خیال بار بار آئے تو خَاطِر ہے، جب اس کا ذہن چوری کی طرف مائل ہوجائے اور وہ یہ منصوبہ بنائے کہ فلاں مکان میں چوری کرنی ہے ،اس کی فلاں دیوار توڑنی ہے، فلاں راستے سے واپس آنا ہے وغیرہ تو یہ حَدیثِ َنفْس ہے اور جب وہ چوری کا اِرادہ کر لے اور غالب جانب چوری کرنے کی ہو لیکن مغلوب گمان یہ ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں لہٰذا چوری نہ کرنا ہی بہتر ہے، تو یہ ہَمّ ہے اور جب یہ مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ پختہ ارادہ کر لے کہ چوری ضرور کروں گا چاہے پکڑا ہی کیوں نہ جاؤں تو یہ عَزْم ہے۔ پہلے چار مرتبوں پر مواخذہ نہیں جبکہ پانچویں مرتبے یعنی عَزْمپر مواخذہ ہے اگرچہ وہ اپنے عَزْم پر کسی وجہ سے عمل نہ کر سکے، مثلاََ چوری کے عَزْم سے وہ کسی مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہو اکہ یہاں تو کچھ ہے ہی نہیں ، لہٰذا واپس آگیا تو اب اسے چوری کا گناہ ملے گاکیونکہ یہ چوری کا پختہ ارادہ کر چکا تھا اگر یہاں مال ہوتا ضرور چوری کرتا ۔
 تُوْبُوْا اِلَی اللہ 	اَسْتَغْفِرُ اللہ