مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے فرشتوں نے نیکیاں اور برائیاں لوحِ محفوظ میں لکھ دیں یا بندے کی تقدیر میں تحریر فرمادیں یا یہ مراد ہے کہ نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے بندے کے نیک وبُرے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳/۳۸۴)
اُمتِ محمدِیَہ پر ربِّ کریم کا خاص فضل وکرم
اُمتِ محمدیہپر ربِّ کریم کا خاص فضل وکرم ہے۔ اس کے دریائے رحمت کا کوئی کنارہ نہیں۔وہ اپنے بندوں پر ستّر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ہم گنہگاروں پر اس کا کتنا کرم واحسان ہے کہ وہ ہمیں نیکی کے ارادے پر بھی نیکی عطا فرماتا ہے اور ایک نیکی کے بدلے دس، سات سو بلکہ اس سے زیادہ جتنا چاہتا عطا فرماتا ہے۔ جبکہ گناہ کے ارادے پر گناہ نہیں ملتا بلکہ اس ارادے سے باز آنے پر بھی نیکی عطا فرماتا ہے اور اگر گناہ ہوجائے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اگر وہ یہ کرم نہ فرماتا اور گناہ کے ارادے پر بھی گناہ ملتا یا ایک گناہ کے بدلے بھی کئی گناہ لکھے جاتے تو انسان بہت بڑی مشکل میں پھنس جاتاکیونکہ انسان کے بُرے خیالات اور بُرے اعمال نیک ارادوں اور نیک اعمال سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس کرم کے باوجود بھی جو محروم رہ جائے تووہ واقعی محروم ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
انسان کو مختلف قسم کے خیالات آتے ہیں۔ پھرکبھی تویہ خود بخود فوراًہی ختم ہوجاتے،کبھی کچھ وقت کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوتے اورکبھی ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ انہیں عملی جامہ پہنا دیا جاتا ہے۔تو ان اچھے برے خیالات پر عذاب وثواب ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے خیالات کی 5قسمیں بیان فرمائی ہیں۔
خیالات کی پانچ قِسمیں
حضرتِ سَیِّدُنا علامہ احمد صاوِی مالِکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : خیالات پانچ قِسم کے ہیں :
(1) ہَاجِس: اچانک کسی چیز کا دل میں خیال آجانا۔
(2)خَاطِر: دل میں کسی چیز کا بار بار خیال آنا ۔