Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
126 - 627
 کے حکم کی تاکید کی طرف اشارہ ہے ، جبکہ’’ سَیِّۃٌ‘‘ کیساتھ کَامِلَۃٌ   نہیں بلکہوَاحِدَۃٌ  ذکر کیا گیا یعنی برائی کے کام میں صرف ایک ہی برائی لکھی جائے گی زیادہ نہیں۔ حدیث پاک کے حصے’’ کَتَبَھَا اللہُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتے کو نیکی لکھنے کا حکم دیتا ہے تو وہ نیکی لکھ دیتا ہے۔ اس کی د لیل یہ حدیث قدسی ہے :’’اِذَا اَرَادَ عَبْدِیْ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً فَلَا تَکْتُبُوْھَا عَلَیْہِ حَتّٰی یَعْمَلَھَا‘‘ترجمہ: ( اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے) کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو جب تک کہ وہ گناہ نہ کر لے ۔‘‘ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فرشتہ بندے کے دل کو جان لیتا ہے ۔ اب یہ جاننا دو طرح سے ہو سکتا ہے یا تواللہ عَزَّوَجَلَّ  اسے مُطَّلع فرمادیتا ہے یا پھر   اُسے ایسی طاقت عطا فرما دیتا ہے جس سے وہ دل کے ارادے کو جان لیتا ہے۔ پہلے قول کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ’’ ایک فرشتے کو یہ ندا کی جاتی ہے کہ فلاں کے لئے اتنی اتنی نیکی لکھو!‘‘ فرشتہ عرض کرتا ہے :’’یا رب  عَزَّوَجَلَّ! اس نے تو یہ عمل کیا ہی نہیں ؟ارشاد ہوتا ہے: ’’ اس نے نیکی کی نیت کی تھی۔‘‘( ایک قول یہ ہے کہ) بندے کے بُرے ارادے پرفرشتے کو بد بو محسوس ہوتی ہے جبکہ اچھے کام کے ارادے پر فرشتے کو خوشبو محسوس ہوتی ہے (اسطرح وہ اچھی بُری نیت کو پہچان لیتا ہے ) ۔
(فتح الباری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۱۲/۲۷۶، تحت الحدیث:۶۴۹۱)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب فرشتے کے علم غیب کا یہ عالَم ہے کہ انسان کے دلی خیالات کو جان لیتا ہے تو  حبیب ِپرْوَرْدگار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمِ غیب کا کیا عالَم ہوگا۔
سرِ عرش پرہے تیری گزر دلِ فرش پر ہے تیری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شئے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نیکیاں اور برائیاں لکھنے سے کیا مراد ہے ؟
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت  مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث پاک کے حصے  ’’إِنَّ اللہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ۔ ترجمہ: بے شک! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں ‘‘کے تحت فرماتے ہیں :  اس سے