Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
125 - 627
 گناہوں کو نہیں بڑھاتا اور اس نے نیکی کے ارادے کو بھی نیکی بنادیا ہے، کیونکہ نیکی کا ارادہ کرنا یہ دل کا ایک فعل ہے جوکہ نیکی کا فعل ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس طرح نیکی کا ارادہ دل کا فعل ہے اسی طرح گناہ کا ارادہ بھی تو دل کا فعل ہے لیکن گناہ کے ارادے پر گناہ نہیں ملتا اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو گناہ کے کام سے رُک گیا تو اس نے اپنے گناہ کے ارادے کونیکی کے ارادے سے منسوخ کردیا اور برائی کی خواہش کرنے والے ارادے کی نفی کی تو یہ عمل اس کے دل کے نیک عمل میں سے ہوگیا اور اسی نیک عمل پر اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور یہ حضور اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی طرح ہے کہ’’ ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔‘‘ عرض کی گئی:’’یارسولَ اللَّہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر مسلمان نیکی نہ کر سکے تو؟‘‘ ارشادفرمایا :’’گناہ سے باز رہنا بھی صدقہ ہے ۔‘‘ 	    (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ،۱۰/ ۱۹۹، تحت الحدیث:۶۴۹۱)
رِضائے الٰہی ضروری ہے 
	 عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ جس نے کسی گناہ کا ارادہ کیا اور پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی خاطر اسے چھوڑدیا تو اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی اور جس نے مجبوراََ گناہ چھوڑا یعنی اس کے اور گناہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے نیکی نہیں لکھی جائے گی ۔ ‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۱۵/ ۵۶۴، تحت الحدیث:۶۴۹۱)
نیک نیت پر ملنے والی نیکی بھی کامل ہوتی ہے 
	 عَلَّامَہ حَافِظ اِ بْنِحَجَرعَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری  میں فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور کے ان الفاظ ’’ عِنْدَہ کَامِلَۃٌ‘‘میں عِنْدَہ ، سے نیکی کی عظمت وشان کی طرف اشارہ ہے جبکہ ’’کَامِلَۃ‘‘  سے اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ نیک ارادے پر ملنے والی نیکی بھی کامل نیکی ہو گی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ حضرت سیِّدُنا عَلَّامَہ  نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :حدیث پاک کے لفظ ’’ کَامِلَۃٌ ‘‘سے اس نیکی کی عظمت اور اس