حدیث نمبر :11 ایک کے بد لے سات سو سے بھی زیادہ نیکیاں
عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ عَبْدِاللہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا یَرْوِیْ عَنْ رَبِّہٖ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ:’’إِنَّ اللہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَااللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً،وَإِنْ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَااللہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ واِنْ ہَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً وَإِنْ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔
(بخاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۴/۲۴۴، حدیث:۶۴۹۱، بتغیر قلیل)
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو الْعَبَّاس عبد اللہ بن عباس بنعبد الْمُطَّلِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت،شمعِ بزمِ ہدایت،نَوشَۂ بزمِ جنَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّسے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ بے شک اللہعَزَّوَجَلَّ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں پھر انہیں بیان فرمادیا ،پس جوکو ئی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کر سکے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس کے نامۂ اعمال میں ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر اراد ے کے ساتھ عمل بھی کرلے تواللہ عَزَّوَجَلَّ دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب لکھتا ہے اور جب کوئی برائی کا ارادہ کرے لیکن پھر اس برائی سے باز آجائے تو اللہعَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر ارادے کے بعد برائی بھی کر لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ صرف ایک برائی لکھتا ہے۔ ‘‘
بندوں پر خاص کرم
عَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرحِ بخاری میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ اگر اللہعَزَّوَجَلَّ کا یہ کرم نہ ہوتا تو کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوتا کیونکہ بندوں کے گناہ ان کی نیکیوں سے زیادہ ہوتے ہیں اور یہ اللہ عَزَّوَجلَّ کا اپنے بندوں پر خاص کرم ہے کہ وہ ان کی نیکیوں کو بڑھا کر دُگنا( بلکہ کئی گنا) کردیتا ہے اور ان کے