جَلادیں۔‘‘ (مسند امام احمد، ۳/۲۹۶، حدیث: ۸۸۰۴)
(3)کان میں پگھلا ہوا سیسہ
جس نے اذان سُنی مگر بغیر کسی شرعی مجبوری کے مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے نہ آیا اس کے کان میں اگر پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جائے تو یہ جماعت ضائع کرنے سے آسان تھا۔ چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :’’ اگر ابنِ آدم کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ بھردیا جائے یہ اِس بات سے بہتر ہے کہ اذان سُنے مگر مسجد میں نہ آئے۔ ‘‘(مکاشفۃ القلوب،ص۲۶۸)
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مَدَ نی گُلد ستہ
’’نماز‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی
وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1) جواپنی دکان یا مکان میں تنہا نماز پڑھ لیتا ہو یا جماعت بھی کروالے تب بھی مسجد کے ثواب سے محروم ر ہے گا اور جماعت واجب ہونے کی صورت میں گناہ گار بھی ہوگا ۔
(2) گھر سے وضو کرکے مسجد جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اور عبادت باوضو افضل ہوتی ہے بعض نیک خصلت لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ کسی مریض کی عِیادت کر نے بھی باوضو جاتے ہیں کیونکہ عِیادت کرنا نیک عمل ہے اور ہرنیک عمل باوضو بہتر ہے۔
(3) جماعت کو جاتے ہوئے ہر قدم پر ایک نیکی ملنا اور ایک گناہ مٹنایہ گنہگاروں کے لئے ہے جبکہ نیکوں کے لیے تو ہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلندی ہے کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے نیکوں کے