کہ ہم نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی ہے۔‘‘ (عیون الحکایات،ص، ۲۵۹)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ترکِ جماعت کی وعیدیں
جہاں باجماعت نماز ادا کرنے کے بے شمار فضائل ہیں وہیں بِلا کسی شرعی مجبوری کے جماعت ضائع کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں بھی ہیں ، سستی و غفلت کی وجہ سے جماعت ترک کردینا عقل مند مسلمان کا کام نہیں کہ ایسا کرنا ڈھیروں ثواب سے محرومی بھی ہے اور اِس سنت عظیمہ(یعنی سنت واجبہ)کا ترک اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غضب شدید کے اُبھارنے کا سبب بھی۔‘‘ چنانچہ، اس ضمن میں 3 روایات ملاحظہ ہوں :
(1)تارکِ جماعت پرقہر وغضب
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے، اگر جان لیتے کہ ان دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے کہوں جو لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوں پھر ان لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔‘‘
(بخاری، کتاب الاذان، باب فضل العشاء فی الجماعۃ، ۱/۲۳۵، حدیث :۶۵۷)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، دوجہاں کے مالک ومختار،حبیب ِپرورد گار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو نماز عشاء قائم کر تا اور جوانوں کو حکم دیتا کہ جو لوگ گھروں میں ہیں ( یعنی جماعت میں حاضر نہیں ہوئے )ان کے گھروں کو آگ سے