تمہارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہدایت والے طریقے عطا فرمائے ہیں اور بے شک یہ نَمازیں انہی میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھر میں نَماز پڑھو گے جیسے اس نَماز سے پیچھے رہنے والے شخص نے اپنے گھر میں نَمازادا کی تو بے شک تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دیا اور اگر تم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طر ف آئے تو اللہعَزَّوَجَلَّاس کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گااور اس کا ایک گنا ہ معاف فرما دے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ کھلا منافق ہی جماعت سے پیچھے رہتا ہے اور ہدایت یا فتہ شخص کسی دوسرے کو ہا تھ سے پکڑ کر مسجد میں لاتا اور صف میں موجود ہوتا ہے۔ (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب صلوۃ الجماعۃ من سنن الھدی، ص ۳۲۸، حدیث: ۶۵۴)
ستائیس مرتبہ نماز دہرائی
حضرتِ سَیِّدُناعُبَیْدُ اللہ بِنْ عُمَرقَوَارِیْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی فرماتے ہیں : میں نے ہمیشہ عشاء کی نماز باجماعت اداکی، مگر افسوس! ایک مرتبہ میری عشاء کی جماعت فوت ہوگئی۔ اس کاسبب یہ ہواکہ میرے ہاں ایک مہمان آیا،میں اس کی خاطر مُدَارَات (مہمان نوازی) میں لگا رہا ۔ فراغت کے بعد مسجد پہنچا توجماعت ہو چکی تھی۔ اب سوچنے لگا کہ ایسا کون سا عمل کروں جس سے اس نقصان کی تلافی ہوجائے۔ یکایک مجھے اللہعَزَّوَجَلَّکے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عالیشان یاد آیا کہ ’’باجماعت نماز، منفرد کی نماز پر اکیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔اسی طرح پچیس اور ستا ئیس درجے فضیلت کی حدیث بھی مروی ہیں ‘‘۔میں نے سوچا، اگر میں ستائیس مرتبہ نماز پڑ ھ لوں تو شاید جماعت فوت ہوجانے سے جوکمی ہوئی ہے وہ پوری ہوجائے ۔ چنانچہ، میں نے ستائیس مرتبہ عشاء کی نمازپڑھی ، پھر مجھے نیند آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو چند گُھڑ سواروں کے ساتھ دیکھا، ہم سب کہیں جارہے تھے ،اتنے میں ایک گھڑ سوار نے مجھ سے کہا: تم اپنے گھوڑے کو مَشَقَّت میں نہ ڈالو ،بے شک تم ہم سے نہیں مل سکتے۔ میں نے کہا:’’ کیوں ؟‘‘ کہا : ’’اس