Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
119 - 627
	 امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیفرماتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو، اس طرح تکرار بھی ختم ہو جائے گی اس لئے کہ اس سے پہلے قول (اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ)میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے اور دوسرے قول (وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ)میں نمازکو جماعت سے ادا کرنے کا حکم ہے ۔ (تفسیر کبیر، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ:۴۳، ۱/۴۸۷)
دوآزادیاں 
	حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمََنے فرمایا : جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے چالیس دن باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ نَماز پڑھے گا اس کے لئے دوآزادیاں لکھی جائیں گی،ایک جہنم سے دوسری نفا ق سے۔
(ترمذی، کتاب ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فی فضل التکبیرۃ الاولٰی، ۱/۲۷۴، حدیث: ۲۴۱)
	 تکبیرِ اُولیٰ کسے کہتے ہیں ؟:پہلی تکبیر کو تکبیرِ اُولیٰ کہتے ہیں اِس کو تکبیر تحریمہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ثواب پانے کے لئے ہمارے لیے ایک رِعایت یہ بھی موجود ہے کہ اگر امام کے ساتھ پہلی رکعت کا رکوع بھی مل جائے تب بھی تکبیر اُولیٰ کاثواب مل جاتاہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی1360 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ بہارِ شریعت‘‘جلد اول صفحہ 509 پر ہے: ’’پہلی رکعت کا رکوع مل گیا، تو تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت پاگیا۔‘‘
(بہارِ شریعت، ۱/ ۵۰۹، حصہ ۳ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے
	حضرتِ سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرما تے ہیں کہ جسے یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مسلمان ہوکر ملے اسے چاہیے کہ جب اذان ہوتو اپنی نَمازوں کو پابندی سے ادا کیا کرے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے