Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
118 - 627
مسلمانوں میں نِزاع (یعنی لڑائی) ہوئی تو حَتّٰی الْوَسْع (جہاں تک ہوسکا)صلح کراؤں گا۔ {39۔38}… مسجد میں جاتے وقت داہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تَقْدِیْم (یعنی پہل) سے اِتِّبَاعِ سنت کروں گا۔{40}… راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اُٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا۔اِلٰی غَیْرِ ذَالِکَ مِنْ نِّیَاتٍ کثِیْرَۃٍ(اس کے علاوہ بہت ساری نیتیں )۔ تو دیکھئے کہ جو اِن اِرادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا صرف حسنۂ نماز (یعنی نماز کی نیکی) کے لیے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس حَسَنات   کیلئے جاتا ہے تو گویاا س کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے، اور ہر قدم چالیس، قدم پہلے ایک نیکی تھا اب چالیس نیکیاں ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ۵ / ۶۷۳ تا ۶۷۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	 اچھی نیتوں کی وجہ سے انسان بہت سی نیکیاں حاصل کر سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمل سے پہلے جتنی ممکن ہو اچھی اچھی نیتیں کر لیں تاکہ ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اچھے اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
باجماعت نماز کے فضائل 
	 حدیث مذکور میں با جماعت نمازکی فضیلت بیان کی گئی، لہٰذا جماعت کے فضا ئل اور ترکِ جماعت کی وعیدیں بیان کی جاتی ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰن مجید میں اِرشاد فرماتا ہے :
وَارْکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ﴿۴۳﴾		 (پ  ۱،  البقرۃ:۴۳)
 ترجمۂ کنزالایمان:اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔
	تفسیر خازن میں ہے:’’فِیْہِ حَثٌّ عَلٰی إِقَامَۃِ الصَّلَاۃِ فِی الْجَمَاعَۃِ فَکَأَنَّہُ قَالَ صَلُّوْا مَعَ الْمُصَلِّیْنَ فِی الْجَمَاعَۃِ‘‘ ترجمہ: اس آیت میں نماز باجماعت ادا کرنے پر ابھارا گیا ہے گویا کہ فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو ۔
(تفسیر الخازن، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ:۴۳، ۱ /۴۹ )