حدیث نمبر:10 باجماعت نماز کا ثواب
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلَی صَلَا تِہِ فِی سُوْقِہِ وَبَیْتِہِ بِضْعًاوَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً وَذَالِکَ أَنَّ أَحَدَہُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ ، فَلَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ہِیَ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلٰئِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِی مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ:اللہُمَّ ارْحَمْہُ اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اللہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ مَا لَمْ یُوْذِ فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔
(مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ وانتظار الصلاۃ، ص۳۳۳، حدیث:۶۴۹)
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مرد کی باجماعت نماز کا ثواب اس کی گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں بیس اور اس سے کچھ زیادہ درجے ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب ان میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کی نِیَّت سے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کاکوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو مسجد میں پہنچنے تک ہر ہر قدم کے بدلے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ مسجدمیں داخل ہونے کے بعد جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے توجب تک کسی کو تکلیف نہ دے یا بے وضو نہ ہوتو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں :’’یااللہعَزَّوجَلَّ ! اِس پر رحم فرما، یااللہعَزَّوجَلَّ ! اِسے بخش دے، یَااللہعَزَّوجَلَّ ! اِس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘
چار دَرَجات
عَلَّامَہاِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالشرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ بعض روایات میں ستائیس درجے زیادہ بعض میں پچیس گنا زیادہ کے الفاظ آئے ہیں یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھی جانے