اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو سچا پکا مسلمان بنائے۔ ہماری اولاد کو ہمارے لئے ذریعہ مغفرت بنائے ہم سب کو قتل وغارت گری، فتنہ وفساد اور دیگر بُری عادتوں سے محفوظ رکھے اور دین ودنیاکی بھلائیلاں عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مَدَنی گلدستہ
’’ہَابِیْل‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کو ر
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) یہ حدیث اس قتال (لڑائی) پر محمول ہے جو بلا وجہ شرعی ہو یا دیانت کے ساتھ تاویل واجتہاد کی بنا پر نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ باغی خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اس سے لڑناجائز ہے۔ (فیوض الباری، ۱/۲۲۲)
(2)گناہ کا پختہ ارادہ بھی گنا ہ ہے ۔ہاں گناہ کا صرف خیال آنا گناہ نہیں۔ چور چوری کرنے نکلا مگر اتفاقاً نہ کرسکا گنہگار ہو گیا، فقہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ارادۂ کفر بھی کفر ہے۔
(3) جو بُرائی رائج کرے تو جتنے بھی لوگ اس بُرائی میں مبتلا ہونگے سب کا گناہ اسے ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی ۔
(4) عورت کا فتنہ بہت برا ہے۔ انسان اگر اس فتنے میں مبتلا ہوجائے تو اس کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
(5)حسد کی بیماری میں مبتلا انسان بڑے بڑے گناہ کرنے سے بھی نہیں چوکتا ، حاسد کاانجام ہمیشہ بُرا ہوتا ہے ۔
اللہعَزَّوَجَلَّہمیں بُری سوچ ،برے افعال اور بُری صحبت سے محفوظ رکھے اور ہمارا حشر اپنے نیک بندوں کے ساتھ فرمائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم