Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
114 - 627
 والی نماز کا ثواب کئی گنا زیادہ ہے ۔وہ درجات و اجزاء جو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے والے کو نصیب ہوتے ہیں اور تنہا نماز پڑھنے والا ان سے محروم رہتا ہے و ہ چار ہیں : (1) باجماعت نماز پڑھنے کی نیت (2) ہر قدم کے بدلے ایک درجہ کی بلندی اور ایک گناہ کی معافی (3) فرشتوں کا اس کے لئے استغفار کرنا (4) نماز کے انتظار پر نماز کا ثواب ملنا ‘‘۔
(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ الجماعۃ، ۲/۲۷۲)
	 عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : مسجد میں با جماعت نماز کا ثواب گھر یا بازار میں اکیلے یاباجماعت نماز پڑھنے سے زیادہ ہے ۔ہاں !جو لوگ مسجد کے علاوہ کہیں اور جماعت سے نماز پڑھ لیں تو ان کا ثواب اکیلے نماز پڑھنے والے سے زیادہ ہوگا لیکن پھر بھی وہ مسجد کی جماعت کی فضلیت کو نہ پاسکیں گے۔ (عمدۃ القاری، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ الجماعۃ، ۴/۲۳۳، تحت الحدیث:۶۴۷) 
 جماعت کی فضیلت کے بارے میں مختلف روایات کی وضاحت 
	باجماعت نماز کی فضیلت بعض روایات میں پچیس اور بعض میں ستائیس درجے بیان کی گئی ہے ۔ علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس اختلاف کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ ستائیس کا ذکر پچیس کے بعد آیا ہے گویا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے پہلے پچیس کی خبر دی پھر یہ ثواب بڑھا کر ستائیس گنا کردیا گیا ۔ایک قول یہ ہے کہ وہ نماز جس میں کم چَلاگیا ہو اور نماز کا انتظار نہ کیا گیا ہواس کا ثواب پچیس گنا ہے اور جس نماز میں زیادہ چلا گیا ہو اور زیادہ دیر نماز کا انتظار کیا گیا ہو اس کا ثواب ستائیس گنا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ثواب کا کم یا زیادہ ہونا نماز ی اور نماز کے بدلنے کی وجہ سے ہوتا ہے پس جو نماز کو اچھے طریقے سے ادا کرے اور اس کی حفاظت کرے اور پورے دھیان سے پڑھے تو اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ عشا اور فجر کی نماز میں ثواب زیادہ ہے کیونکہ ان نمازوں میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ اس قول کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ ’’ باجماعت نماز تم میں سے کسی ایک کے تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے اور فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔‘‘ (ملخصا عمدۃ القاری، کتاب الصلٰوۃ، باب الصلوۃ فی مسجد  السوق، ۳/۵۴۶، تحت الحدیث:۴۷۷)