بیان کیا گیاہے۔
سات دن تک زلزلہ
قابیلبہت ہی گورا اور خوبصورت تھا مگربھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل سیاہ و بدصورت ہو گیا۔ سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا، وُحوش و طُیُور(درندوں اور پرندوں ) میں اِضْطِرَاب اور بے چینی پھیل گئی ،حضرتِ سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو اپنے فرزند اَرجُمَند حضرتِ سَیِّدُناہابیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موت کا بہت رَنج ہوا یہاں تک کہ ایک سو برس تک کبھی آپ کو ہنسی نہ آئی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سُریانی ز بان میں شعر پڑھا جس کا عربی ترجمہ یہ ہے:
تَغَیَّرَتِ الْبِلَادُ وَمَنْ عَلَیْھَا فَوَجْہُ الْاَرْضِ مُغْبَرٌ قَبِیْحٗ
تَغَیَّرَ کُلُّ ذِیْ لَوْنٍ وَطَعْمٍ وَقَلَّ بَشَاشَۃُ الْوَجْہِ الصَّبِیْحٗ
ترجمہ: تمام شہروں اور اُن کے باشندوں میں تغیر پیدا ہو گیا اور زمین کا چہرہ غبار آلود اور قبیح ہو گیا۔ ہر رنگ اور مزہ والی چیز بدل گئی اور گورے چہرے کی رونق کم ہو گئی۔ ( روح البیان، پ۶،المائدۃ تحت الایۃ: ۲۷۔۳۰، ۲/۳۸۱)
قتل ناحق ایسا قَبِیْح (بُرا) فعل ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا دین وایمان بھی برباد ہو سکتا ہے۔ قابیل بھی اس گناہ کی وجہ سے کفر کی دلدل میں پھنس کر دائمی عذاب کا مستحق ہوا۔ چنانچہ، منقول ہے کہ
آگ کاسب سے پہلا پجاری
حضرتِ سَیِّدُنا ہابیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قتل کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے شدید غضب ناک ہو کرقابیل کو اپنے دربار سے نکال دیا،تو وہ بدنصیب اِقْلِیْمَا کو ساتھ لے کر یمن کی سرزمین ’’عدن‘‘ میں چلا گیا۔ وہاں ابلیس لعین اس کے پاس آیااور کہاکہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھالیا کہ وہ آگ کی پوجا کیا کرتا تھا، لہٰذا تو بھی ایک مَندَر بناکر آگ کی پوجاشروع کردے ۔ چنانچہ،اس نے ایسا ہی کیا اوریہی وہ شخص ہے جس نے آگ کی سب سے پہلے پوجاشروع کی۔ ( روح البیان، پ۶، المائدۃ تحت الایۃ:۲۷ ۔۳۰، ۲/۳۸۲)