Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
108 - 627
آسمان سے ایک آگ اترتی اور اسے جلاڈالتی ۔ چنانچہ، قابیل نے گیہوں کی کچھ بالیں اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی۔ آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا اور قابیل کے گیہوں کو چھوڑ دیا۔ اس پر قابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہو گیا اور اس نے ہابیل کو قتل کردینے کی ٹھان لی اور ہابیل سے کہا کہ میں تجھے قتل کروں گا۔ ہابیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ قربانی قبول کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کام ہے اور وہ اپنے مُتَّقِی(مُتْ۔تَ۔ قِی) بندوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو مُتَّقِی ہوتا تو ضرور تیری قربانی قبول ہوتی۔ ساتھ ہی حضرت ہابیل نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ تجھ ہی پرپڑے اور توہی جہنمی ہو کیونکہ بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ آخر قابیل نے اپنے بھائی حضرتِ سَیِّدُناہابیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قتل کردیا۔ بوقتِ قتل ان کی عمر 20برس تھی اور قتل کا یہ حادثہمَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں جَبَلِ ثور کے پاس یا جَبَلِ حِرا کی گھاٹی میں ہوا۔ بعض کا قول ہے کہ شہر بصرہ میں جس جگہ مسجد ِ اعظم بنی ہوئی ہے وہاں بروز منگل یہ سانحہ رونما ہوا۔وَاللہُ تَعَالٰی ٰاَعْلَم وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
(ملخصاً روح البیان، پ۶، المائدۃ، تحت الایۃ:۲۸،۲/۳۷۹)
انسان کومُردہ دفن کرناکس نے سکھایا؟
	حضرتِ سَیِّدُنا ہابیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پہلے دنیا میں کوئی آدمی نہ مرا تھا اس لئے قابیل پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کا کیا کرے ۔ چنانچہ، کئی دن تک وہ لاش کو اپنی پیٹھ پر لادے پھرتارہا۔ پھر اس نے دو کوّے لڑتے دیکھے جن میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ پھر اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر ایک گڑھا کھودا اور مَرے ہوئے کوّے کو اس میں ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چاہئے۔ چنانچہ، اُس نے قبر کھودی اوربھائی کی لاش کو دفن کردیا۔ (مدارک التنزیل، پ۶، المائدۃ، تحت الایۃ:۳۱، ص۲۸۲)	
	قراٰنِ کریم میں حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامکے دو بیٹوں کاواقعہ پارہ 6 سورہ ٔمائدہ آیت نمبر 27تا31میں