Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
107 - 627
  (2)حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بن عَمْرو  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ایک مومن کا قتل دنیا کے زوال سے بڑھ کر ہے۔ 
(ترمذی،کتاب الدیات، باب ماجاء فی تشدید قتل مؤمن،۳/۹۸، حدیث:۱۴۰۰)
 (3)حضرتِ سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ حاشِر،رسولِ صابِر و شاکِر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ایک مومن کا قتل دنیا کے زوال سے بڑھ کر ہے۔
(شعب الإیمان، باب فی تحریم النفوس والجنایات علیہا، ۴/۳۴۴، حدیث:۵۳۴۱) 
 	دنیا میں سب سے پہلیحضرتِ سَیِّدُنا ہابیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوا ن کے سگے بھائی قابیل نے ناحق قتل کیا تھا۔مختصر واقعہ یہ ہے کہ
دنیا میں سب سے پہلا قَتل 
	 ’’قابیل و ہابیل دونوں حضرتِ سَیِّدُناآدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزندتھے ، حضرتِ سَیِّدَتُناحوّاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ قابیل کے ساتھ’’ اِقْلِیْمَا ‘‘ اور ہابیل کے ساتھ’’ لیوذا‘‘پیدا ہوئی، اس وقت یہ دستور تھا ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُناآدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہابیل کا نکاح ’’ اِقْلِیْمَا ‘‘سے کرنا چاہا مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ’’  اِقْلِیْمَا‘‘ زیادہ خوبصورت تھی اس لئے وہ اس کا طلب گار ہوا۔حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے اسے سمجھایا کہ ’’  اِقْلِیْمَا  ‘‘تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لئے وہ تیری بہن ہے تیرا اس سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ مگر قابیل اپنی ضد پر اَڑا رہا۔ بالآخر حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ حکم دیا کہ تم دونوں اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانیاں پیش کرو، جس کی قربانی مقبول ہو گی وہی’’اِقْلِیْمَا ‘‘کا حق دار ہو گا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی تھی کہ