مسلمان اپنا مال ،عزت یا جان بچانے کے لئے کسی چور ، ڈاکو سے مزاحمت ومقابلہ کرتے ہوئے قتل ہوجائے تو چور ،ڈاکو ہی جہنمی ہونگے جبکہ یہ قتل ہونے والاشہید کا مرتبہ پائے گا ۔ (ملخص ازمراٰۃ المناجیح ، ۵/۲۶۵)
قتلِ ناحق کا عذاب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔قراٰن وحدیث میں اس گناہ پر بہت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾ (پ۵، النساء :۹۳)
ترجمۂ کنزالایمان :اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:
مَنۡ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیۡرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ (پ ۶، المائدۃ:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا (بچایا) اس نے سب لوگوں کو جِلالیا۔
قتل ناحق کی مذمت میں 3 روایات
(1)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ بروزِ قیامت قاتل کو ہزار مرتبہ قتل کیا جائے گا ۔ عاصم بن اَبِی النَّجُوْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا :’’اے ابو زُرعہ ہزار مرتبہ ؟‘‘ ابو زُرعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’جس آلہ سے اس نے قتل کیا اس کی ہزار ضربیں۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفتن، باب من کرہ الخروج فی الفتنۃ وتعوذ عنھا، ۸/۶۴۴، حدیث:۳۳۰)