معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہے اگر وہ چاہے تو دونوں کو دَوزخ کا عذاب دے اور اگر چاہے تودونوں کو معاف فرما کر بالکل ہی عذاب نہ دے۔(ملخصاًعمدۃ القاری، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفھما، ۱۶/ ۴۹۔۳۴۸، تحت الحدیث:۷۰۸۳)
دنیا کی وجہ سے قتل
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِی میں فرماتے ہیں : علامہ بَزَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے اس حدیث پاک کی مراد بیان کرتے ہوئے فرمایا :یعنی جب تم دنیا کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرو تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں اور اس کی تائید مسلم شریف کی اس حدیث سے ہوتی کہ ’’قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک لوگوں پر ایسا زمانہ نہ آجائے کہ قاتل کو معلوم نہ ہو کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ معلوم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے۔‘‘ عرض کی گئی کہ ایسا کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ بکثرت خون ریزی ہوگی اور قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہونگے ۔
عَلَّامَہقُرْطُبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ جو لڑائی جہالت کی بنا پر دنیاوی غرض کے لئے ہو یا نفسانی خواہش کی پیروی میں ہوتوقاتل ومقتول دونوں جہنمی ہیں۔
(فتح الباری ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفہما، ۱۴/۳۰، تحت الحدیث:۷۰۸۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ:جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کے ارادے سے کسی بھی ہتھیارمثلاََتلوار، خنجر بندوق وغیرہ سے حملہ آور ہوں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کردے توقاتل و مقتول دونوں کی سزا جہنم ہے ،قاتل تو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور مقتول قتل کے پختہ ارادے کی وجہ سے کیونکہ اگرپہلے اس کا وار چل جاتا تویہ اسے قتل کر دیتا ،لہٰذا اسے بھی قتل ہی کا گناہ ملے گا،لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب دونوں باطل پر ہوں اگر کوئی ایک حق پر ہو تو صرف باطل والاہی گناہ گار ہوگا ، جیسے کوئی