حدیث نمبر:9 قا تل و مقتول دونوں جہنمی
عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ہَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ إِنَّہُ کَانَ حَرِیْصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِہٖ۔
(بخاری ، کتاب العلم ، باب وان طائفتان من المؤمنین … الخ ، ا/۲۳، حدیث:۳۱)
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرہ نُفَیْع بن حَارِث ثَقَفِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جب دو مسلمان تلواریں لئے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں توقاتل ومقتول دونوں آگ میں ہیں۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں ) میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقاتل تو واقعی اس کاحق دار ہے مگر مقتول کا کیا قصور ہے؟ ‘‘ ارشاد فر مایا:’’ وہ بھی تواپنے مُقابِل کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘
قاتل ومقتول کب جہنمی ہونگے ؟
حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : حرام فعل کا ارادہ کرنا ان افعال میں سے ہے جن پرمواخذہ ہے۔ اوریہ ( قاتل ومقتول دونوں کے جہنمی ہونے کا حکم ) اس وقت ہے جب دونوں ہی ایک دوسرے کے قتل کے ارادے سے حملہ آور ہوں۔ اگر ان میں سے ایک نے دِفاع کا ارادہ کیا اور اُس کی طرف سے پہل بھی نہ ہوئی مگر صرف دوسرے کے مارنے کی وجہ سے اس نے اس کو قتل کردیاتو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا،کیونکہ اس کو(اپنی جان بچانے کی) شرعااجازت دی گئی ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدیات، باب قتل اہل الردۃ ، ۷/۱۰۴، تحت الحدیث:۳۵۳۸)
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ قاتل و مقتول دونوں آگ میں ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں آگ کے مستحق ہیں ،لیکن ان دونوں کا