Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
103 - 627
 ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ  اپنی شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’فیضانِ سنت‘‘ میں اِخلاص کے ضمن میں ایک بہت ہی سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(7)مجھے موتیوں والا چاہیے 
	 ایک مرتبہ سلطان مَحمود غَزنوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے کچھ قیمتی مَوتی اپنے افسران کے سامنے پھینکتے ہوئے فرمایا: ’’چُن لیجئے اور خود آگے چل دئیے۔تھوڑی دُور جانے کے بعد مُڑکر دیکھا تواَیاز گھوڑے پر سُوار پیچھے چلاآرہا ہے۔پوچھا ،اَیاز !کیا تجھے مَوتی نہیں چاہئیں ؟ اَیَّاز نے عَرض کی: عالی جاہ!جو موتیوں کے طالِب تھے وہ موتی چُن رہے ہیں ،مجھے تو مَوتی نہیں بلکہ موتیوں والا چاہیے۔ 			(فیضان سنت ، باب فیضانِ رمضان، ۱/ ۹۴۹)
مَدَنی گُلدَستہ
’’ نبی ‘‘ کے3 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 3 مدنی پھول:
 (1) عمل چاہے کتناہی اچھاہو اگر نیت خراب ہو تو ثواب نہیں ملتا بلکہ بسا اوقات بہت اچھا عمل بھی نیت کی خرابی کی وجہ سے وبال بن جاتاہے جیسے صرف لوگوں کو دکھاوے کے لئے نماز پڑھنا اور رضائے الٰہی کی نیت نہ ہونا، وغیرہ ۔ 
(2) رضا ئے الٰہی  کے لئے کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ، ان کے مقابلے میں اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے ۔
 (3) خدمتِ دین کے ساتھ مالِ غنیمت کی نیت بھی ہونانقصان دہ نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمتِ دین کی نیت ہو، غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۴۲۹۔۴۲۸)
اللہعَزَّوَجَلَّہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے اور ہر عمل کامل اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭٭