Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
102 - 627
 رِضائے الٰہی ہو اور جو لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے وہ ثواب سے محر وم ہوجاتا ہے۔ منقول ہے کہ 
(4)نیکی کر کے لوگوں سے تعریف چاہنا کیسا؟
	ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عُبَادَہ بن صَامِتْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’ اگر میں اس طرح جہاد کروں کہ رضائے الٰہی کے علاوہ لوگوں سے تعریف کا بھی طلبگار ہوں تو اس طرح کرنا کیسا ہے ؟‘‘ فرمایا: تجھے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات دُہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا پھرفرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:’’ میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔‘‘  			(إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )
(5)نیک عمل کے ذریعے اپنی تعریف نہ چاہو!
	ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُناسَعِیْد بِن مُسَیَّبعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ ا لرَّب سے پوچھا کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی تعریف بیان کی جائے اوراسے ثواب بھی ملے ؟ فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب ہو؟ عرض کی: نہیں فرمایا: جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عمل کرو تو خالص اُسی کے لئے کرو۔(ایضاً)
(6) اللہ عَزَّوَجَلَّکا کوئی شریک نہیں 
	حضرتِ سَیِّدُنا ضَحَّاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ’’یہ کام اللہعَزَّوَجَلَّکے لئے بھی ہے اور تمہارے لئے بھی‘‘ اور یہ بھی نہ کہے کہ’’ یہ کام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے بھی ہے اوراوروں کے لئے بھی‘‘ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاکوئی شریک نہیں۔ 		     (إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )  
    	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہرنیک عمل صرف اور صرف رِضائے الٰہی کے لئے ہونا چاہئے۔ اس کی رضا مل گئی توسب کچھ مل جائے گا اور اس نعمت سے بڑھ کر کوئی اور دولت نہیں۔ اگرچہ جنت کے حصول یا جہنم کے خوف سے عمل کرنے والا بھی مخلص ہے لیکن کامل اخلاص یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے نہ ہو بلکہ مقصود صرف خالقِ حقیقی کی ذات پاک ہو ۔ شیخِ طریقت ،امیر اہلِ سنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا