Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
101 - 627
مجاہد ہے ۔اور جو لوگوں میں مجاہدو بہادر مشہور ہونے یااپنی واہ واہ کی خاطر یا صرف قومی غیرت کے لئے جہاد کرے تاکہ اس کے خاندان کا نام روشن ہو تو وہ مجاہد نہیں بلکہ رِیا کار ہے ۔
	رِیا کاری کی تعریف:حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’رِیا کی اصل یہ ہے کہ اچھے اعمال دِکھا کر لوگوں کے دِلوں میں اپنا مقام بنایا جائے ،پس رِیا کی تعریف یہ ہوئی کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے ذریعے بندوں (کی خوشنودی )کا ارادہ کرنا۔‘‘  (إحیاء العلوم،۳/۳۶۵)
  ’’ اَ لْمَدِیْنَہ ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے اخلاص ورِیا سے متعلق 7روایات
( 1)رِیا کار کے چار نام
	 بروزِ قیامت  رِیا کار کو یوں پکارا جائے گا: ’’(1)اے ریا کار(2) اے دھوکے باز (3)اے نقصان اُٹھانے والے اور(4) اے دَغا باز !جا!اور اپنا ثواب اسی سے لے جس کے لئے توعمل کیا کرتاتھا۔ ‘‘					 (إحیاء العلوم، ۳/۳۶۲ )
 (2)رِیا کار کی تین نشانیاں 
	 حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَا لٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم فرمایا کرتے تھے کہ ریا کار کی تین نشانیاں ہیں (1) جب تنہا ہوتا ہے تو عمل میں سستی کرتا ہے ،(2) جب لوگوں میں ہوتا ہے خوشی خوشی عمل کرتا ہے (3) تعریف کی جائے تو اس کا عمل بڑھ جاتا ہے اور جب برائی بیان کی جائے توعمل کم کر دیتا ہے۔   (إحیاء العلوم،۳/۳۶۴ )
(3)ریا کار اپنے ربّ سے مذاق کرتا ہے 
حضرتِ سَیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ جب بندہ ریا کاری کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے :’’میرے بندے کو دیکھو مجھ سے مذاق کرتا ہے۔‘‘ 	(إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )
	پیارے اسلامی بھائیو! نیک عمل پرپورا پورا ثواب اسی وقت ملتا ہے جب اس سے مقصود صرف اور صرف