Brailvi Books

فیضانِ نماز
38 - 49
چھوٹ جاتا ہے)(۹) جَلسہ یعنی دوسجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا(بعض لوگ جلدبازی کی وجہ سے برابر سیدھے بیٹھنے سے پہلے ہی دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اس طرح ان کا واجب ترک ہو جاتا ہے چاہے کتنی ہی جلدی ہو سیدھا بیٹھنا لازمی ہے ورنہ نَماز مکروہِ تَحریمی واجِبُ الْاِعادَہ ہوگی) (۱۰) قعدئہ اُولیٰ واجِب ہے اگر چہِ نَمازِ نفل ہو …
(در ا صل نفل کا ہر قعدہ ،’’قعدۂ اخیرہ‘‘ہے اور فرض ہے اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رَکعَت کا سجدہ نہ کرلے لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے۔)(بہارِ شریعت، ج۱، حصّہ ۴، ص ۷۱۲)
	اگرنفل کی تیسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرکے سجدۂ سہو کرے ، سجدۂ سہواس لئے واجِب ہوا کہ اگرچِہ نفل میں