Brailvi Books

فیضانِ نماز
21 - 49
کے بعد سَکْتہ کرے (یعنی چپ ہوجائے) اور سَکْتہ کی مقدار یہ ہے کہ جواب دینے والاجواب دے لے،سَکْتہ کاتَرْک مکروہ ہے اورایسی اذان کااِعادَہ مستحَب ہے۔ (الدر المختار و ردالمحتار ج۲ص۶۶)جواب دینے والے کو چاہئے کہ جب مُؤَذِّن صاحِب ’’اللہُ اَ کْبَرُ  اللہُ اَ کْبَر‘‘کہہ کر سکتہ کریں یعنی خاموش ہوں اُس وقت  ’’اللہُ اَ کْبَرُ اللہُ اَکْبَر‘‘کہے۔اِسی طرح دیگرکَلِمات کاجواب دے۔جب مُؤَذِّن پہلی بار’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسولُ اللہ‘‘کہے، یہ کہے :
’’صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ یارَسُوْلَ اللہ‘‘
 آپ پر دُرُود ہویارسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)
(رد المحتا ر، ج۲،ص ۸۴)