Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
99 - 325
ترجمہ: ''مومن صرف تین کاموں کی طرف رغبت کرتا ہے(۱) آخرت کیلئے زاد ِ راہ جمع کرنا۔ (۲) حلال روزی کمانا۔(۳) ایسی لذت حاصل کرنا جو حرام نہ ہو''(الترغیب والترہیب جلد ۳ ص ۱۸۸' ۱۸۹ کتاب الفقہاء)
چار ساعتیں :
اور اسی طرح ایک دوسری حدیث بھی ان سے مروی ہے:
عَلَی الْعَاقِلِ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ اَرْبَعُ سَاعَاتٍ سَاعَۃٌ یُنَاجِیْ فِیْہِ رَبَّہٗ وَ سَاعَۃٌ یُحَاسِبُ 

فِیْھَا نَفْسَہٗ وَ سَاعَۃٌ یَتَفَکَّرُ فِیْھَا فِیْ صُنْعِ اللہِ وَ سَاعَۃٌ یَخْلُوْفِیْھَا لِلْمَطْعَمِ وَ الْمَشْرَبِ۔
ترجمہ : ''عقل مند آدمی کیلئے چار اوقات ہونے چاہئیں ایک وقت میں اپنے رب (عزوجل) سے مناجات کرے دوسرے وقت میں اپنے نفس کا احتساب کرے تیسرے وقت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق و صنعت کی حکمت میں غور کرے اور چوتھی ساعت میں کھانے پینے کیلئے فارغ ہو''

کیوں کہ یہ کھانے پینے والی ساعت باقی تین ساعتوں میں اسکی مددگار ہوگی پھر جس ساعت میں کھانے پینے میں مشغول ہو وہ بھی افضل عمل سے خالی نہیں ہونی چاہئے اور وہ عمل غورو فکر ہے مثلاً اس نے جو کھانا حاصل کیا اس میں اتنے عجائب ہیں کہ اگر ان میں غور و فکر کرے اور ان کو سمجھے تو یہ اعضاء کے بہت سے اعمال سے افضل ہے ۔اور اس سلسلے میں لوگوں کی کئی قسمیں ہیں۔
تین قسم کے لوگ:
ایک قسم ان لوگوں پر مشتمل ہے جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی صنعت کے عجائبات میں غور کرتے ہیں کہ حیوانات کی زندگی اس سے کس طرح مربوط ہے۔ اسباب کے سلسلے میں تقدیر خداوندی کی کیفیت کیا ہے نیز یہ کہ خواہشات کو پیدا کیاجو اس کا باعث ہے اور اس خواہش کے لوازمات پر غور کرتا ہے ،یہ عقل مند لوگوں کامقام ہے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جواﷲ ل کی خاطر غذاؤں اور لذت کو غصے اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس میں صرف مجبوری کی حالت کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ اس سے بے نیاز ہونا چاہتے ہیں لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں نفس کی خواہش کی وجہ سے مجبور ہیں یہ زاہد لوگوں کا مقام ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صانع عزوجل کی صنعت کو دیکھتے ہیں اور اس سے خالق (عزوجل) کی صفات کی طرف توجہ کرتے ہیں ان کا غذاؤں کو دیکھنا فکر کے دروازے کھولتا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے یہ عارفین کا مقام اور محبین کی
Flag Counter