Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
98 - 325
چنانچہ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے۔
وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ؕ
ترجمہ کنز الایمان: ''اور جو اللہ کی حدو ں سے آگے بڑھا بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا''( پارہ۲۸' سوره طلاق  آیت ۱)

تو بندے کو ہر وقت ان تین قسموں سے متعلق اپنے نفس کا خیال رکھنا چاہئے اورجب فرائض سے فارغ ہو اور نفلی عبادت پرقدرت ہوتو اسے سب سے بہتر نفلی عمل تلاش کرنا چاہئے۔کیونکہ جو شخص زیادہ نفع حاصل کرنے پر قادر ہو لیکن سستی کی وجہ سے حاصل نہ کرے وہ گویا نقصان اٹھاتا ہے ۔

اور زیادہ نفع' نفلی اعمال کی کثرت سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے بندہ دنیا سے اپنی آخرت کا حصہ وصول کرتا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے۔
وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنْیَا
ترجمہ کنز الایمان: ''اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول''(پارہ۲۰ ' سورہ قصص ' آیت ۷۷)

اور یہ سب کچھ ایک ساعت کے عمل ہی سے ممکن ہے کیوں کہ ساعتیں در اصل تین ہیں ایک وہ جو گزر چکی ہے ، خواہ مشقت میں گزری یا آرام میں، اسکا کوئی رنج نہیں۔دوسری وہ جو ابھی تک نہیں آئی ،بندے کو اس کا علم نہیں کہ وہ اس ساعت میں زندہ رہے گا یا نہیں ؟ اور اسے اس بات کا علم بھی نہیں کہ اس ساعت میں اﷲ تعالیٰ اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے ۔ اور تیسری وہ ہے جس میں بندہ موجود ہے ،اسے اس میں اپنے نفس سے مجاہدہ کرنا اور اپنے رب (عزوجل) کی رضا کو سامنے رکھنا چاہئے ۔

کیونکہ اگر اسے آئندہ عمل کا موقع نہ بھی ملا تب بھی اسے اس پر افسو س نہ ہوگا اور اگر بالفرض آنے والی ساعت میں زندہ رہا تو اس سے بھی اپنا حق وصول کرلے گا جس طرح پہلی ساعت کو عبادت میں گزار کر اسے حاصل کیا تھا ۔اور بندے کو چاہئے کہ اپنی زندگی کی امید پچاس برس تک نہ ٹھہرائے کہ اس طرح وہ اتنی لمبی مدت تک مراقبہ کرنے سے گھبرا جائے گا بلکہ یوں سمجھے کہ اس کا وقت پورا ہوچکا ہے اور یہ اس کے آخری سانس ہیں ہوسکتا ہے یہ اس کے آخری سانس ہوں اور اگر اسے علم نہ ہو تب بھی اس بات کا امکان ہے کہ یہ اس کے آخری لمحات ہوں تو اسے ایسا عمل اختیار کرنا چاہئے جس میں اگر اسے موت آجائے تو اسے ناگوار نہ ہو اور ہونا تو یہ چاہئے کہ اس کے تمام احوال ایسے طریقے پر رہیں جو حضرت سیدنا ابوہریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
لاَ یَکُوْنُ الْمُوْمِنُ ظَاعِنًا اِلاَّفِیْ ثَلاَثٍ تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ اَوْ مَرَمَّۃٍ لِمَعَاشٍ اَوْلَذَّۃٍ فِی غَیْرِ مُحَرَّمٍ۔
Flag Counter