Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
100 - 325
علامت ہے کیوں کہ جب کوئی مُحِبّ اپنے محبوب کی کاریگری، اس کی کتاب یا تصنیف کو دیکھتا ہے تو وہ صنعت کو بھول جاتا ہے اور اس کا دل صانع(بنانے والے) کی طرف لگ جاتا ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بندہ جس چیز میں بھی غورو فکر کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صنعت موجود ہوتی ہے اب اگر اس کیلئے ملکوت کے دروازے کھل جائیں تو صانع کی طرف دیکھنے کی بہت گنجائش ہے لیکن یہ بہت ہی کمیاب ہے۔

اور چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو ان کھانوں کو حرص اور رغبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ جو کچھ نہیں ملا اس پر کف افسوس ملتے ہیں اور جو کچھ حاصل ہوا اس پر خوش ہوتے ہیں جو کچھ ان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا اسے چھوڑ دیتے ہیں اس میں عیب نکالتے ہیں اور اس کے فاعل کی برائی بیان کرتے ہیں یعنی پکانے والے کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ پکانے والے کو جو قدرت اور علم حاصل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کی مخلوق میں سے کی مذمّت کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناشائسۃکلمات کہنے کا مرتکب کہلاتا ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ تَسُبُّوْا الدَّھْرَ فَاِنَّ اللہَ ھُوَ الدَّھْرُ۔
ترجمہ : ''زمانے کو گالی نہ دو کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہے''(صحیح مسلم ج۲،ص ۲۳۷، کتاب الالفاظ من الادب) 

یہ مراقبے(یعنی فکر مدینہ) کا دوسر ادرجہ ہے اس میں اعمال کے دوام کی نگہداشت ہوتی ہے اس کی تشریح بہت طویل ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہ سمجھدارکیلئے چند اصول ہیں جو بہت فائدہ مند ہیں۔
نگہداشت کا تیسرا مقام عمل کے بعد نفس کا مُحَاسَبہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے نفس کا محاسبہ بڑی اچھی چیز ہے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں ارشاد خدواندی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ
ترجمہ کنز الایمان: ''اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا'' ۔(پارہ۲۸ ' سورہ حشر' آیت۱۸)

اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گذشتہ اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے اسی لئے حضرت سیدنا
Flag Counter