علامت ہے کیوں کہ جب کوئی مُحِبّ اپنے محبوب کی کاریگری، اس کی کتاب یا تصنیف کو دیکھتا ہے تو وہ صنعت کو بھول جاتا ہے اور اس کا دل صانع(بنانے والے) کی طرف لگ جاتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بندہ جس چیز میں بھی غورو فکر کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صنعت موجود ہوتی ہے اب اگر اس کیلئے ملکوت کے دروازے کھل جائیں تو صانع کی طرف دیکھنے کی بہت گنجائش ہے لیکن یہ بہت ہی کمیاب ہے۔
اور چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو ان کھانوں کو حرص اور رغبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ جو کچھ نہیں ملا اس پر کف افسوس ملتے ہیں اور جو کچھ حاصل ہوا اس پر خوش ہوتے ہیں جو کچھ ان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا اسے چھوڑ دیتے ہیں اس میں عیب نکالتے ہیں اور اس کے فاعل کی برائی بیان کرتے ہیں یعنی پکانے والے کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ پکانے والے کو جو قدرت اور علم حاصل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کی مخلوق میں سے کی مذمّت کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناشائسۃکلمات کہنے کا مرتکب کہلاتا ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: