حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں۔ میں ایک دفعہ چوکڑی مار کر بیٹھا ہوا تھا اس اثناء میں میں نے ایک غیبی آواز سنی کہ کیا بادشاہوں کے سامنے اسی طرح بیٹھتے ہیں؟ اس کے بعد میں کبھی بھی چوکڑی مار کر نہیں بیٹھا۔
اور جب سوئے تو قبلہ رُخ ہو کر دائیں ہاتھ پر سوئے اور ان تمام آداب کا خیال رکھے جن کا ذکر ہم ان کے مقام پر کرچکے ہیں کیونکہ یہ سب باتیں مراقبے میں شامل ہیں یہی نہیں بلکہ قضائے حاجت کے وقت آداب کا خیال رکھنا بھی مراقبے کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے ۔
تو انسان کی تین حالتیں ہوتی ہیں (۱)عبادت میں مصروف ہوگا(۲) گناہ میں (۳) یا کسی مباح کام میں ۔
تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عبادت میں اس کا مراقبہ نیت کا خالص ہونا' عبادت کو مکمل کرنا' آداب کا خیال رکھنا اور عبادت کو آفات سے بچانا ہے۔
اگر معاذ اللہ (عزوجل) گناہ میں مشغول ہو تو اس کا مراقہ توبہ کرنا' نادم ہونا ،باز رہنا' حیا کرنا اور غور وفکر میں مشغول ہونا ہے اور اگر کسی مباح (جائز) کام میں مصروف ہو(جس کا کرنا ضروری نہیں ہے) تو اس صورت میں آداب کا لحاظ کرنا گویا نعمتوں کے ملنے پر مُنْعِمْ لکا شکر ادا کرنا ہے۔
اسکے علاوہ بندہ کسی بھی حالت میں ہو' مصیبتوں اور آزمائشوں سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا اسے ان پر صبر کرنا چاہئے اسی طرح بندے کو کوئی نہ کوئی نعمت ضرور ملتی ہے تو اس پر اسے شکر ادا کرنا چاہئے اور یہ تمام باتیں مراقبے سے تعلق رکھتی ہیں۔
بلکہ بندے پر ہر وقت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فریضہ عائد ہوتا ہے اسکی کئی اقسام ہو سکتی ہیں مثلاً
وہ یا تو کوئی فعل ہوگا جس کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی یا کوئی ممنوع کام ہوگاجس کا چھوڑنا ضروری ہویا کوئی مستحب کام ہوگا جس کی اسے ترغیب دی جارہی ہے تاکہ اس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ سے مغفرت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کے بقیہ بندوں سے زیادہ نیکیاں کر جائے یا وہ کام مباح ہوگا جس کے کرنے سے اسے جسم کی درستگی ، دل کی فرحت و تازگی کے ذریعے عبادتِ خداوندی (عزوجل) پر استقامت ملے گی۔
ان میں سے ہرعمل کی کچھ حدود ہیں جن کی رعایت ضروری ہے اور یہ رعایت دائمی مراقبے سے حاصل ہوتی ہے۔