Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
96 - 325
ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ اسْتَکْمَلَ اِیْمَانَہُ لَا یَخَافُ فِی اﷲِ لَوْمَۃً لِاِثْمِ وَلاَ یُرائِی بِشَیْءٍ مِّنْ عَمَلِہِ وَ اِذَا عَرَضَ لَہُ اَمْرَانِ اُحَدُھُمَا لِلدُّنْیَا وَألآخَرُ لِلْآخِرَۃِ آثَرَ الْآخِرَۃَ عَلَی الدُّنْیَا۔
ترجمہ : ''تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں اس کا ایمان مکمل ہوجاتا ہے' (۱) اﷲ تعالیٰ کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے' (۲) اپنے کسی عمل میں ریاکاری نہ کرے' (۳) اور جب اس کے سامنے دو باتیں پیش ہوں جن میں سے ایک کا تعلق دنیا سے ہو اور دوسری کا آخرت سے تودنیا پر آخرت کو ترجیح دے''(کنز العمال جلد ۵ ۱ ص ۸۱۷ حدیثِ ۴۳۲۴۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بندے کو چاہئے کہ جب کوئی عمل ایسا معلوم ہو کہ وہ مباح (جائز) ہو لیکن اس کا کوئی دینی یا دنیاوی مقصد نہ ہو تو اسے چھوڑ دے کیوں کہ سرکار دو عالم انے ارشاد فرمایا۔
مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ' ماَلاَ یَعْنِیْہِ
ترجمہ : ''انسان کے حُسن اسلام سے ہے کہ بے فائدہ کام کو چھوڑ دے''(مجمع الزوائد جلد ۸ ص ۱۸ کتاب الادب)
دوسری نظر:
مراقبے (فکر مدینہ) کی دوسری نظر عمل شروع کرتے وقت ہوتی ہے وہ یہ کہ بندہ کیفیتِ عمل پر توجہ کرے تاکہ اس میں اﷲ تعالیٰ کے حق کو پورا کرسکے، اس کو پورا کرنے میں نیت اچھی ہو اور اس عمل کی صورت کو مکمل کرکے حتی الامکان اسے کامل بنائے نیزیہ بات اسے ہر حالت میں لازم ہوتی ہے کیونکہ آدمی کسی بھی حالت میں حرکت و سکون سے خالی نہیں ہوتا جب وہ اپنی ان تمام حالتوں میں اﷲ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھے گا تو نیت ،حسن عمل اور رعایتِ ادب کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی عبادت پر قادر ہو سکے گا ۔

مثلاً جب وہ بیٹھے تو اسے چاہئے کہ قبلہ رُخ ہو کر بیٹھے کیوں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
خَیْرُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِہِ الْقِبْلَۃُ
ترجمہ : ''بہترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ کی طرف رُخ ہو''(المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۲۷۰ کتاب الادب)

حتی المقدور چوکڑی مار کرنہ بیٹھے کیوں کہ بادشاہوں کے سامنے اس طرح نہیں بیٹھتے اور اللہ (عزوجل) جو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے اسے دیکھ رہا ہے ۔چنانچہ
Flag Counter