Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
95 - 325
اور فرمایا
وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیۡلِ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور بیچ کی راہ ٹھیک اﷲ تک ہے''( پارہ ۱۴' سوره النحل' آیت ۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا علی المرتضی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں:''خواہش نفس ایک طرح کا نابیناپن ہے اور حیرانگی کے وقت توقف (یعنی درست بات کا علم ہونے کا انتظار )کرنا توفیق کی بات ہے اور غم کو ٹالنے والی بہترین چیز یقین ہے ۔جھوٹ کا انجام پشیمانی ہے اور سچ میں سلامتی ہے ۔بہت سے بیگانے اپنوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور غریب وہ ہے جس کا کوئی مددگار نہ ہو اور صدّیق وہ ہے جس کا باطن اس کی تصدیق کرے ۔دیکھو !بدظنی کے باعث کسی دوست کو کھونہ دینا' بہترین عادت کرم ہے۔ حیاء ہر اچھی بات کی بنیاد ہے ، سب سے مضبوط رسی تقویٰ ہے اور سب سے مستحکم عمل وہ ہے جو تیرے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان ہے ۔دنیا میں سے تیرا حصہ وہی ہے جس کے ذریعے تو اپنی آخرت کو درست کرے ''۔

مزید ارشاد فرماتے ہیں ''رزق کی دو قسمیں ہیں ایک رزق وہ ہے جسے تو تلاش کرتا ہے اور دوسرا وہ جو تجھے تلاش کرتا ہے اور اگر تو اس کے پاس نہ جائے تو وہ تیرے پاس آئے گا۔اگر تو اس مصیبت پر واویلا کرتا ہے جو تجھ تک پہنچ چکی ہے تو اس مصیبت پر واویلا نہ کر جو تجھ تک نہیں پہنچی ۔اور جو چیز نہیں ہوئی اسے اس پر قیاس کر جو ہوچکی ہے کیونکہ کہ تمام امور ایک جیسے ہیں انسان اس چیز کے حصول پر خوش ہوتا ہے جو جانے والی نہ ہو اور جسے کبھی نہیں پاسکتا اس کے نہ ملنے پر ناراض ہوتا ہے۔ لیکن تجھے دنیا سے جو کچھ ملے اس پر زیادہ خوش نہ ہو جو کچھ تجھے نہ مل سکا اس پر افسوس نہ کربلکہ تجھے اس پر خوش ہونا چاہئے جو آگے بھیجا اور اس پر افسوس کرنا چاہئے جو تونے پیچھے چھوڑا ۔تجھے آخرت کے لئے مشغول ہونا چاہئے اور موت کے بعد والی زندگی سے متعلق فکر مند ہونا چاہئے''۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان تمام کلمات کو نقل کرنے سے ہماری غرض یہ ہے کہ حیرت کے وقت توقف کرنا توفیق کی بات ہے۔
پہلی نظر :
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مراقبہ(فکر مدینہ) کرنے والے کی پہلی نظر اس بات پر ہونی چاہئے کہ اس کا ارادہ اور حرکت اﷲ تعالیٰ کے لئے ہے یا خواہش کے تابع ہے کیونکہ رسول اکرم ،شاہ بنی آدم انے ارشاد فرمایا۔
Flag Counter