| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) کی ایک جماعت نے عراقیوں اور شامیوں سے لڑنے میں توقف کیا کیوں کہ ان پر یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا تھا۔ جیسے حضرت سَیِّدُناَسعد بن ابی وقاص، حضرت سَیِّدُناَعبد اللہ بن عمر ، حضرت سَیِّدُناَاسامہ ،حضرت سَیِّدُناَمحمد بن مسلمہ او ر دیگر صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)۔ اور جو شخص شبہ کے وقت توقف نہ کرے وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اپنی رائے کو پسند کرنے والا ہوگا اور یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جن کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فَاِذَا رَاَئْتَ شُنًّا مُطَانًا وَ ھَوَیَ مُتَّبعاً وَ اعِجَابَ کُلِّ ذِیْ رَاِیئٍ بِرَأیْہٖ فَعَلَیْکَ بِخَاصَّۃِ نَفْسِکَ۔
ترجمہ : ''جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت اور خواہش کی پیروی کی جاتی ہے نیز ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو ہی پسند کرتا ہے تو اس وقت تمہیں صرف اپنی فکر کرنی چاہئے'' (حلیۃ الاولیاء، ج ۳، ص ۲۱۹ ترجمہ ۲۳۸) لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر وقت ہر شے کے بارے میں شبہے کا شکار رہے کہ جو شخص تحقیق کے بغیر شبہ میں پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کی مخالفت کرتا ہے۔
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ
ترجمہ کنز الایمان: ''اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں'' (پارہ۱۵ 'سورہ بنی اسرائیل ' آیت ۳۶) پھر اس شخص نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اس حدیث شریف کی جیسا کہ بھی مخالفت کی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اِیَّاکُمْ وَ الظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ۔
ترجمہ : ''اپنے آپ کو گمان سے بچاؤ کیوں کہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے''(صحیح بخاری ،ج ۱، ص ۳۸۴،کتاب الوصایا) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس گمان سے مراد ، وہ گمان ہے جو دلیل کے بغیر ہوجیسے عوام میں سے بعض لوگ اشتباہ کے وقت اپنے دل سے فتوٰی لے کر گمان کے پیچھے چلتے ہیں چونکہ یہ کام مشکل بھی ہے اور عظیم بھی اس لیے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) یوں دعا مانگا کرتے تھے۔
صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی دعا:
اَللّٰھُمَّ اَرِنِیْ الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقنِیْ اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنِیْ الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنِیْ اجْتِنَابَہٗ وَ لاَ تَجْعَلْہُ