Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
91 - 325
ں کار آمد سمجھ کر اٹھا لیتا ہے)

تو مراقبے کے سلسلے میں یہ پہلی نظر اور سوچ بچار ہے۔ اور اس میں کامیابی کیلئے مضبوط علم، اعمال کے اسرار کی حقیقی معرفت اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے آگاہی ضروری ہے چنانچہ۔

جب تک آدمی اپنے نفس ، اپنے رب (عزوجل) اور اپنے دشمن شیطان کی پہچان حاصل نہ کرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ نفس کی خواہش کے مطابق کونسا کام ہے اور جب تک وہ اپنی نیت، ارادے، فکر اور حرکات و سکنات کے سلسلے میں خواہش اور محبت اور رضائے الٰہی (عزوجل) کے درمیان تمیز نہ کرے ، مراقبہ میں محفوظ نہیں ہوسکتا بلکہ اکثر لوگ ان کاموں میں جہالت کے مرتکب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ کو معلوم ہے کہ جہالت عذر نہیں اور جاہل جس بات کو سیکھنے پر قادر ہواور پھر نہ سیکھے اس میں اس کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا ۔بلکہ علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے یہی وجہ ہے کہ عالم کی دو رکعتیں ، غیر عالم کی ہزاررکعات سے بہتر ہیں، کیوں کہ وہ نفوس کی آفات ، شیطان کی مکاریوں اوردھوکے کے مقامات سے واقف ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے بچتا ہے۔

جب کہ جاہل کو اس بات کی پہچان نہیں ہوتی پھر وہ اس سے کیسے بچے گا؟ لہٰذا جاہل ہمیشہ مشقت میں مبتلا رہتا ہے اور شیطان اس سے خوش رہتا ہے۔ہم جہالت اور غفلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کیوں کہ یہ ہر بدبختی کی جڑ اور ہر نقصان کی بنیاد ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر بندے کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ جب وہ کسی عمل کا ارادہ کرے اور اپنے اعضاء کو کوشش میں لگانا چاہے تو اس وقت تک عمل میں جلدی نہ کرے جب تک نورِ علم کے ذریعے اس پر واضح نہ ہو جائے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور اگر وہ نفس کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ہو تو بچنا اور اپنے د ل کو اس کے بارے میں سوچنے اور اس کا ارادہ کرنے پر جھڑکنا چاہئیے کیوں کہ فضول خیال کو دور نہ کیا جائے تو اس سے رغبت پیدا ہو تی ہے رغبت ارادے کو جنم دیتی ہے اور ارادہ عزم صمیم کا باعث بنتا ہے اور عمل تباہی اور غضب خداوندی (عزوجل) کا سبب ہوتا ہے۔

لہٰذا شروع ہی سے شر کے مادے کی بیخ کنی کی جائے اورابتدا ء میں شرکا یہ مادہ خیال کی صورت میں ہوتا ہے باقی سب باتیں اس کے بعد آتی ہیں اور اگر آدمی پر حقیقت منکشف نہ ہو تو نور علم کے ساتھ اس میں غور و فکر کر ے اور شیطان کے مکر و فریب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہے اور اگر خود سوچ بچار نہ کر سکے تو علمائے دین کے نور سے روشنی حاصل کرے البتہ گمراہ کن دنیا دار علماء سے اس طرح بھاگے جسطرح شیطان سے بھاگتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔