خالص اللہ تعالیٰ کیلئے ہے یا نفسانی خواہش اور شیطان کی پیروی میں ہے تو اس سلسلے میں اچھی طرح غور کرے حتیّٰ کہ نورحق کے ذریعے یہ بات اس پر واضح ہو جائے۔چنانچہ
اگر وہ کام اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتو اسے کر ے اور اگر غیر خدا کیلئے ہو تو اﷲ تعالیٰ سے حیا کرتے ہوئے اس کام سے رک جائے۔
پھر اپنے نفس کو ملامت کرے کہ اس نے کیوں اس کام میں رغبت کی اور کیوں اس کا قصد کیا اور اسے اس کے فعل کی برائی سمجھائے اور بتائے کہ اس (نفس) نے اپنی رسوائی کیلئے یہ کوشش کی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اسے محفوظ نہ رکھتا تو وہ خود اپنے آپ سے دشمنی کر چکا ہوتا۔
کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ بندے کے سامنے ہر حرکت کے تین دفتر(رجسٹر) کھولے جائیں گے اگرچہ وہ حرکت چھوٹی ہی ہو ایک دفتر یہ کہ یہ عمل کیوں کیا؟ دوسرا یہ کہ کس طرح کیا؟ اور تیسرا یہ کہ کس کیلئے کیا؟۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آدمی کو چاہئیے کہ اپنے نفس کو ملامت کرے کہ تونے یہ کام کیوں کیا ؟ کیا تجھ پر اپنے آقا کیلئے اس کا کرنا لازم تھا یا اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اس کی طرف مائل ہونا ۔
اگربندہ اس سے بچ گیا تو دوسرا سوال ہوگا کہ کیسے کیا؟ کیوں کہ ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرنا ضروری ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ عمل کس طریقے سے کیا؟ یقینی علم کے ساتھ یاجہالت ' گمان یا اندازے کے ساتھ؟ اگر اس سوال سے بھی محفوظ رہا تو تیسرا دفتر کھلے گا اور اخلاص کے بارے میں سوال ہوگا اور اس سے پوچھا جائے گا کس کیلئے عمل کیا؟ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اور لاالٰہ الاّ اللہ پر عمل کرنے کیلئے؟ اگر یہ درست ہے تو بندے کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر واجب ہو گیا اور اگر اپنے جیسی مخلوق کو دکھانے کیلئے یہ عمل کیا تواس سے کچھ اس طرح کہا جائے گا کہ ثواب اسی مخلوق سے طلب کرو، اگر دنیا کا مال حاصل کرنے کیلئے کیا تو ہم تمہارا دنیوی حصہ تمہیں دے چکے ہیں اور اگر غفلت اور بھول کے طور پر کیا ہے تو اجر بھی گیا عمل بھی ضائع ہو ا اور کوشش بھی برباد ہو گئی اور اگر میرے غیر کیلئے یہ کام کیا تو میرا عذا ب اور ناراضگی لازم ہوگئی کیوں کہ تو میرا بندہ تھا میرا رزق کھاتا اور میری نعمتوں سے نفع حاصل کرتا تھا پھر تو نے دوسروں کیلئے عمل کیوں کیا ؟۔ کیا تونے میرا یہ قول نہیں سنا تھا۔