Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
88 - 325
چلے جاؤ''۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ان مراقبہ کرنے والوں کا درجہ ہے جن کے دلوں پر اللہ ل کی بزرگی اور تعظیم کا غلبہ ہوتا ہے اور ان میں کسی غیر کی گنجائش نہیں ہوتی۔
    دوسرادرجہ

                             اصحاب یمین کا مراقبہ
یہ ان لوگوں کا مراقبہ ہے جو اصحاب یمین اور متقی ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن پر مطلع ہے لیکن ملاحظہ ء جلال سے وہ مدہوش نہیں ہوتے بلکہ ان کا دل حد اعتدال پر رہتا ہے ۔

لیکن وہ اعمال کے ساتھ مکمل تعلق کے باوجو د مراقبہ سے غافل نہیں رہتے البتہ ان پر اللہ تعالیٰ سے حیا کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے وہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے ثابت قدمی اختیار کرتے ہیں اور ایسے کام سے اجتناب کرتے ہیں جس کے باعث قیامت کے دن ذلت و رسوائی ہو۔وہ یوں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مطلع ہے 

ان دونوں درجوں میں اختلاف ایک مثال کے ذریعے معلوم ہو سکتا ہے مثلاً جب آپ علیحدگی میں کوئی عمل کر رہے ہو ں اور کوئی دوسرا ا ۤجائے اور آپ کو معلوم ہوجائے کہ وہ آپ کے کام سے آگاہ ہو چکا ہے توآپ کو اس سے حیاآتی ہے اورآپ اس کے ساتھ اچھی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے حالات کا خیال رکھتے ہیں لیکن اس احتیاط کا سبب بزرگی اور تعظیم نہیں ہے بلکہ حیا و مروت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کا مشاہدہ اگرچہ آپ کو مدہوش نہیں کرتا اور نہ ہی آپ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن اس کے آنے سے آپ تکلّف محسوس کرتے ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کا خیال رکھتے ہیں۔

جبکہ بعض اوقات آپ کے پاس کوئی آفیسر یاکوئی بزرگ شخصیت آتی ہے توآپ اس کی تعظیم کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو جاتے ہیں حتی کہ اپنی تمام مصروفیات چھوڑ دیتے ہیں اور یہ چھوڑنامحض حیاکی وجہ سے نہیں بلکہ ہیبت اور تعظیم کہ وجہ سے ہوتا ہے

چنانچہ بندے کو چاہیےئ کہ وہ اپنی تمام حرکات و سکنات بلکہ دلی جذبات کی بھی نگرانی کرے بلکہ تمام اختیارات کی حفاظت کرے اور ان امور میں دو پہلوؤں سے نگرانی کی ضروت ہے ایک عمل سے پہلے اور دوسرا عمل کے دوران ۔

عمل سے پہلے یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ جو کچھ اس کے سامنے ظاہر ہوا یا دل میں عمل کی خواہش پیدا ہوئی ہے کیا وہ
Flag Counter