منقول ہے کہ حضرت سیدنا شبلی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو الحسین نوری(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے پاس تشریف لے گئے تو ان کو حالتِ اعتکاف میں نہایت دل جمعی اور خاموشی سے بیٹھا ہوا دیکھا کہ ان کے جسم میں کسی قسم کی حرکت نہیں ہے ا نہوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ مراقبہ اور سکون کہاں سے سیکھا ۔ فرمایا ''ہمارے پاس ایک بلِّی تھی اس سے سیکھا ہے جب وہ شکار کا ارادہ کرتی توچوہوں کے بِلوں کے پاس گھات لگا کر اس طرح بیٹھتی کہ اس کا ایک بال بھی حرکت نہ کرتا ''۔
حضرت سیدنا ابو عبد اللہ بن خفیف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )فرماتے ہیں ''میں مصر سے رملہ جانے کیلئے نکلا تاکہ وہاں ابو علی روذباری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے ملاقات کروں تو معروف زاہد حضرت سیدنا عیسٰی بن یونس مصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے مجھے حکم دیاکہ مقام ''صور'' میں ایک نوجوان اور ایک بوڑھا شخص مراقبہ کی حالت میں ہیں اگر آپ ان کو ایک نظر دیکھ لیں تو شاید ان سے آپ کو نفع حاصل ہو ۔(فرماتے ہیں) میں مقام صور میں داخل ہو اور میں بھوکا پیاسا تھا، میری کمر میں ایک کپڑا بندھا ہوا تھا لیکن میرے کاندھوں پر کچھ بھی نہ تھا۔
جب میں مسجد میں داخل ہواتو وہاں دو آدمیوں کو دیکھا جو قبلہ رُخ بیٹھئے ہوئے تھے میں نے انہیں سلا م کیا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا میں ان کو دوسری اور تیسری بار سلام کیا لیکن مجھے جواب نہیں سنائی دیا میں نے کہا میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ میرے سلام کا جواب دو تو نوجوان نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر کہا اے ابن خفیفص! دنیا بہت تھوڑی ہے اور اس تھوڑی میں سے بھی بہت قلیل باقی رہ گئی ہے۔اے ابن خفیفص! کیا تمہیں کوئی کام نہیں کہ تم ہم سے ملاقات کرنے کیلئے آگئے۔
حضرت سیدنا ابن خفیف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں اس کے کلام نے مجھ پر مکمل طور پر اثر کیا اور میں نے وہیں سر جھکا لیا۔ میں ان دونوں کے پاس ٹھہر ا رہا حتی کہ ہم نے ظہر اور عصر کی نماز پڑھی اوراس دوران نہ مجھے بھوک محسوس ہوئی نہ پیاس۔
اس کے بعدجب عصر کا وقت ہوا تو میں نے کہا مجھے کچھ نصیحت کریں تو انہوں نے سر اٹھاکر فرمایا'' اے ابن خفیف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )! ہم مصیبت کے مارے ہوئے لوگ ہیں ہمارے پاس نصیحت کے لئے زبان نہیں ''۔فرماتے ہیں میں تین دن تک ان کے پاس رہا اور اس دوران میں نے کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی سویا اور میں نے ان کو بھی کوئی چیز کھاتے پیتے نہیں دیکھا تیسرا دن ہوا تو میں نے دل میں کہا میں ان کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے کوئی نصیحت کریں شاید ان کی نصیحت سے مجھے کوئی نفع حاصل ہو۔ اتنے میں نوجوان نے سر اٹھا یا اور فرمایا'' اے ابن خفیف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )! ان لوگوں کی مجلس اختیار کرو جنہیں دیکھنے سے تمہیں خدا دیاد آئے اور ان کی ہیبت تمہارے دل پر چھا جائے وہ تجھے عمل کی زبان سے نصیحت کریں قول کی زبان سے نہیں اب ہمارے پاس سے