Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
86 - 325
بات پر ٹوکا تو انہوں نے اس سے فرمایا ''جب تم میرے پاس سے گزرو تومجھے متوجہ کر دیاکرنا۔''

اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ۔کیوں کہ تم دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں اس کی مثال پاؤ گے حتی کہ ان کے خادم ان کے درباروں میں ان کی طرف اس قدر متوجہ ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی خبر تک نہیں ہوتی ۔

بلکہ بعض اوقات دنیا کے کسی ادنٰی کام میں مشغولیت کی وجہ سے عام آدمی کی تمام تر توجہ اسی طرف مبذول ہوجاتی ہے اور انسان بے خیالی میں چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ مقصود مقام سے آگے نکل جاتا ہے اور جس کام کا ارادہ کیا تھا اسے بھول جاتا ہے۔

چنانچہ حضرت سیدنا عبد الواحدزید(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے پوچھا گیا کہ آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) اس زمانے میں کسی ایسے آدمی کو پاتے ہیں جواپنی حالت میں مشغول ہو کر مخلوق سے بے خبر ہو انہوں نے فرمایا ''میں صرف ایک آدمی کو جانتا ہوں جوعنقریب ابھی آتا ہو گا'' زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ مشہور بزرگ حضرت سیدنا عتبہ غلام صداخل ہوئے حضرت سیدنا عبد الواحد بن زید(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے ان سے پوچھا ''اے عتبہ ! کہا ں سے آرہے ہو انہوں نے کہا فلاں جگہ سے، اور اس کا راستہ بازار کی طرف سے تھا'' ۔پوچھا ''راستے میں کس سے ملاقات ہوئی؟'' انہوں نے جواب دیا ''میں نے کسی کو نہیں دیکھا''۔

حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے بارے میں مروی ہے کہ آپ (علیہ السلام) ایک عورت کے پاس سے گزرے، اسے دھکا لگااور وہ منہ کے بل گر گئی آپ (علیہ السلام)سے پوچھا گیا کہ آپ(علیہ السلام) نے ایسا کیوں کیا؟ ۔فرمایا ''میں سمجھا یہ دیوار ہے۔''

اسی طرح ایک بزرگ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے بارے میں منقول ہے وہ فرماتے ہیں میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے گفتگو کرنا چاہی تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں زیادہ لذت ہے ۔ میں نے پوچھا تم تنہا ہو اس نے کہامیرے ساتھ میرا رب اور دو فرشتے ہیں میں نے تیر اندازوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ان لوگوں میں سے سبقت لے جانے والا کون ہے؟ فرمایا ''جس کو اللہ تعالیٰ بخش دے ''میں نے پوچھا راستہ کہاں ہے انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا'' (اے اللہ!) تیری مخلوق تجھ سے بہت غافل ہے یہ کہا اور اٹھ کر چلے گئے ''۔ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایسے شخص کی گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ کے مشاہدے میں مستغرق ہو اسی سے کلام کرے اور اسی سے سنے ،اسے اپنی زبان اور اعضاء کی حفاظت کی ضرورت نہیں رہتی ۔چنانچہ