Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
85 - 325
کرتا رہے اور اسی کی طرف رجوع کرے۔

اور اس حالت سے جو معرفت حاصل ہوتی ہے اس سے اس بات کا یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر مطلع ہے اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بندوں کے اعمال اس کے سامنے ہیں ،ہر نفس جو کچھ کرتا ہے وہ اس سے واقف ہے اس کے حق کے واسطے دل کا راز کھلا ہے جس طرح مخلوق کے لئے جسم کا ظاہر کھلا ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اور جب شک زائل ہو جائے اور یہ معرفت یقین میں بدل جائے تو اسے نگران حقیقی کا خیال رکھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ 

میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! جولوگ اس معرفت کانام یقین رکھتے ہیں وہ مقربین کہلاتے ہیں اور ان کی دو قسمیں ہیں ایک صدیقین ہیں اور دوسرے اصحابِ یمین ، لہٰذا ان کے مراقبے کے بھی دو درجے ہیں۔ چنانچہ
پہلا درجہ 

                          صد یقین کا مراقبہ :
یہ صدیقین مقربین کا مراقبہ ہے اور یہ رب ذوالجلال کی تعظیم اور بڑائی کا مراقبہ ہے یعنی دل اس کی بزرگی و عظمت کے مشاہدے میں گم ہو اور اسکی ہیبت سے لرزاں و ترساں ہواور کسی دوسری طرف توجہ کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ ہم اس مراقبے کے اعمال کی تفصیل میں نہیں جاتے کیوں کہ یہ دل کے ساتھ خاص ہے جہاں تک اعضاء کا تعلق ہے تو وہ (مقربین صدیقین)مباح چیزوں کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے چہ جائیکہ ممنوعات کی طرف اور جب فرمانبرداری اور عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو گویا اسی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ان اعضاء کو درست رکھنے کیلئے کسی تدبیر وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے چونکہ جب نگران (یعنی دل )راہ راست پر ہو تو رعایا (یعنی اعضاء)خود بخود درست راہ پر رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دل اعضاء کاحاکم و نگران ہے تو جب وہ اپنے معبود کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو تمام اعضاء کسی تکلّف کے بغیر درستگی اور استقامت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

چنانچہ یہی وہ شخص ہے جسے صرف ایک فکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے باقی تمام فکروں سے بچا لیا ہے اور جب آدمی اس درجے پر پہنچ جائے تو پھر مخلوق سے غافل ہو جاتا ہے حتی کہ اسے پاس بیٹھے ہوئے آدمی کا بھی پتہ نہیں چلتا حالانکہ بظاہر اس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں اور جو کچھ کہا جا رہا ہے اسے نہیں سنتا حالانکہ وہ بہرہ نہیں ہوتا حتی کہ کبھی اس کا بیٹا اس کے پاس سے گزرتا ہے لیکن اسے پتہ نہیں چلتا یہاں تک کہ بعض بزرگوں (رحمہم اللہ تعالیٰ)کے ساتھ یہ معاملہ ہوا اور کسی نے انہیں اس
Flag Counter