Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
84 - 325
آج کا دن کتنی جلدی گز رہا ہے اور کل کا دن یعنی قیامت دیکھنے والوں کیلئے قریب ہے''۔

ایک مرتبہ حضرت سیدنا حمید ا لطویل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے حضرت سیدناسلیمان بن علی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے انہوں نے فرمایا''اگر تم تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے تو تم نے بہت بڑی بات پر جرأت کی اور اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ وہ تمہیں دیکھ نہیں رہا تو تم نے کفر کیا''۔

حضرت سیدنا سفیا ن ثوری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں اس ذات کو نگاہ میں رکھنا چاہئے کہ جس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی ۔ اور اس سے امید رکھو جو وفا کا مالک ہے اور اس سے ڈرو جو سزا دینے پر قادر ہے۔

حضرت سیدنا فرقد سنجی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے فرمایا ''منافق دیکھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا اگر اس کا خیال ہو کہ اسے کوئی نہیں دیکھتا تو وہ برائی کی راہ اختیار کرتا ہے اور لوگوں کاخیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا لحاظ نہیں رکھتا۔''
آخرت میں آزاد ی :
حضرت سیدنا عبد اللہ بن دینار(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) فرماتے ہیں میں حضرت سیدناعمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی طرف گیا ہم راستے میں ایک جگہ اترے تو پہاڑ سے ایک چرواہا آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے پاس آیا ۔آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' اے چرواہے! اس ریوڑ میں سے ایک بکری مجھے بیچ دو'' اس نے کہا میں کسی کا غلام ہوں۔ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے امتحاناً فرمایا'' اپنے مالک سے کہہ دینا کہ اسے بھیڑئیے نے کھالیا''۔ اس نے عرض کیا ، تو اللہ تعالیٰ کہاں ہے!(وہ تو دیکھتا ہے) ۔ فرماتے ہیں(یہ سن کر) حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) رو پڑے پھر دوسرے دن اس غلام کو خرید کر آزاد کر دیا اور فرمایا ''دنیا میں تجھے اس کلمے نے آزاد کر دیا اور مجھے امید ہے کہ یہی کلمہ تیری آخرت کی آزادی کا باعث بھی ہوگا''۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۲

                  مراقبہ کی حقیقت اور اس کے دَرَجات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ نگرانی کرنے والے کا لحاظ کیا جائے اور اپنی توجہ کو مکمل طور پر اسی کی طرف پھیرا جائے ۔جو شخص کسی دوسرے کی وجہ سے کسی بات سے پرہیز کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں کا خیال اور لحاظ کرتا ہے اور یہاں اس مراقبہ سے مراد دل کی کیفیت ہے جو معرفت سے -حاصل ہوتی ہے اور اس حالت کے حاصل ہونے کے بعد اعضاء اور دل میں کچھ اعمال پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ہونا یہ چاہئے کہ مراقبے میں دل، نگران ہو یعنی رب (عزوجل) کا خیال
Flag Counter