Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
83 - 325
کا شکر ادا کرجس کی نعمتیں تجھ سے منقطع نہیں ہوتیں۔ اس کی عبادت کر جس سے تو بے نیاز نہیں ہوسکتا اپنا خشوع و خضوع اس کیلئے اختیار کر جس کی بادشاہی اور غلامی سے تو باہر نہیں نکل سکتا۔''

حضرت سیدنا سہل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) فرماتے ہیں کہ دل اس سے بڑھ کر کسی اور چیز سے مزیّن نہیں ہو تا کہ بندہ اس بات کا یقین رکھے کہ وہ جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔

کسی بزرگ (علیہ الرحمۃ) سے اس آیت کریمہ کی تفسیر پوچھی گئی ۔
 رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے''(پارہ۳۰ 'سورہ بیّنہ'آیت ۸)

انہوں نے فرمایا'' اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کو دیکھتے ہیں اپنے نفس کا احتساب کرتے ہیں اور اپنی آخرت کیلئے سامان اختیار کرتے ہیں''۔
جنت حاصل کرلیجئے :
حضرت سیدنا ذوالنون مصری رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ بندے کو جنت کیسے حاصل ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ''پانچ باتوں سے جنت حاصل ہوتی ہے''۔

(۱)ایسی استقامت جس میں جھول نہ ہو۔(۲) ایسا اجتہاد جس میں بھول نہ ہو۔(۳) ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کو سامنے دیکھنا(مراقبہ) ۔(۴) تیاری کے ساتھ موت کا انتظار۔(۵) اور نفس کا احتساب کرنا اس سے پہلے کہ اسکا محاسبہ کیا جائے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کہا گیا ہے کہ:
اِذَا مَا خَلَوْتَ یَوْمًا فَلاَ تَقُلْ                     خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَیَّ رَقِیْبٌ

وَ لاَ تَحْسَبَنَّ اللہَ یَغْفُلُ سَاعَۃً               وَ لاَ اَنَّ مَا تُخْفِیْہِ عَنْہُ یَغِیْبُ 

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْیَوْمَ اَسْرَعُ ذَاھِبٍ                  وَ اَنَّ غَدًا لِلنَّاظِرِیْنَ قَرِیْبٌ
ترجمہ : ''اور جب کسی دن تو تنہا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں تنہا ہوں بلکہ یوں کہہ کہ وہ (اللہ تعالیٰ) مجھے دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایک گھڑی بھی غافل نہ سمجھ اور نہ یوں سمجھ کہ جو کچھ تو اس سے چھپاتا ہے وہ اس سے غائب ہے ۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ
Flag Counter