کہ وہ دیکھ نہیں سکتا ) تو کیا میں جبار بادشاہ(عزوجل) سے حیا نہ کروں ؟''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک نوجوان کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے ایک لونڈی کواپنے قریب کرنا چاہا تو اس نے کہا تمہیں حیا نہیں آتی ؟ اس نے پوچھا کس سے حیا کروں ہمیں تو صرف ستارے دیکھ رہے ہیں لونڈی نے کہا پھر ستاروں والا کہاں گیا ؟ (یعنی ستاروں کو پیدا کرنے والا تو دیکھتا ہے ) ۔
ایک شخص نے حضرت سیدنا جنید بغدادی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے پوچھا کہ میں نگاہیں نیچی رکھنے (یعنی آنکھوں کا قُفلِ مدینہ لگانے) کیلئے کیا کروں ؟
انہوں نے فرمایا'' یہ عقیدہ رکھو کہ تمہیں دیکھنے والے کی نظر تم تک اس سے پہلے پہنچتی ہے کہ تمہاری نظر کسی دوسرے تک پہنچے۔'' نیز حضرت سیدنا جنید بغدادی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں اُس شخص کا مراقبہ مضبوط ہوتا ہے جو اپنے رب (عزوجل)سے حاصل ہونے والے انعام کے فوت ہو جانے کا خوف رکھتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا مالک بن دینار(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے مروی ہے فرماتے ہیں جنت عدن' جنت الفردوس میں سے ہے اور وہاں ایسی حوریں ہیں جو جنت کے گلاب سے پیدا کی گئی ہیں' پوچھا گیا وہاں کون رہے گا؟ فرمایا'' اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جنت عدن میں وہ لوگ ہوں گے جو گناہوں کا ارادہ کریں تو میری عظمت کو یاد کرکے میرا لحاظ کرتے ہیں اور وہ لوگ جن کی کمر میرے خوف کی وجہ سے جھک گئی ہے مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم ہے میں زمین والوں کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں پھر جب ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو میری رضا کی خاطر بھوکے پیاسے رہتے ہیں تو لوگوں سے عذاب کو پھیر دیتا ہوں''۔
حضرت سیدنا محاسبی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے مراقبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ''اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دل کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا علم ہو''۔