| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
اسی ضمن میں حضرت سیدناعبدالواحد بن زیدرحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں جب میرا سردار میرا نگہبان ہے تومجھے کسی اور کی پرواہ نہیں ۔ ایسے ہی حضرت سیدنا ابو عثمان مغربی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ''اس راستے میں انسان جو چیزیں اپنے اوپر لازم کرتاہے ان میں سے افضل ترین عمل مُحاسبہ اورمُراقبہ اور اپنے عمل کو علم کے مطابق بنانا ہے''۔ حضرت سیدنا ابن عطار رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ''سب سے بہترین عبادت ہمہ وقت مُراقبہ حق کو اختیار کرنا ہے ''۔ حضرت سیدنا جریری رحمۃاﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ''ہمارا معاملہ دوضابطوں پر مبنی ہے ایک اﷲ(عزوجل) کے لیے اپنے نفس کا مُراقبہ اور دوسرا علم کو اپنے ظاہر پر قائم کرنا ''۔ حضرت سَیِّدُنا ابو عثمان رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ مبلغین کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو حفص رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا '' جب تم لوگوں میں بیٹھو تو اپنے نفس اور دل کونصیحت کرو اور ان کا تمہارے پاس جمع ہونا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے کہ وہ تمہارے ظاہر کواور اﷲ(عزوجل) تمہارے باطن کو دیکھتا ہے ''۔
اﷲ (عزوجل) د یکھ رہا ہے :
منقول ہے کہ مشائخ میں سے ایک بزرگ کا ایک نوجوان شاگرد تھا وہ بزرگ اس کی تعظیم کرتے تھے ان کے کسی مرید نے پوچھا کہ آپ اس کی عزت کیوں کرتے ہیں جب کہ یہ نوجوان ہے اورہم عمررسیدہ ہیں؟ ان بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے کچھ پرندے منگوائے اور ان سب کو ایک ایک پرندہ اور ایک ایک چھری دے دی اور فرمایا '' تم میں سے ہر ایک اس پرندے کووہاں ذبح کرے جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو ''۔اس نوجوان کو بھی اسی طرح پرندہ دیا اور اس سے بھی وہی بات فرمائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ہر ایک ذبح کیا ہوا پرندہ لے کرواپس آیا لیکن وہ نوجوان زندہ پرندہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے واپس آیا ، بزرگ نے پوچھا کہ دوسروں کی طرح تم نے اسے کیوں ذبح نہ کیا ؟ اس نے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو کیوں کہ اﷲ(عزوجل) تو مجھے ہر جگہ دیکھتا ہے ۔ ان سب نے اس نوجوان کے مرُاقبے کو پسند کیا اور کہا کہ واقعی یہ نوجوان عزت و احترام کے لائق ہے۔ اسی طرح منقول ہے کہ حضرت سیدتنا زلیخا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جب حضرت سیدنا یوسف (علیہ السلام)کے ساتھ خلوت میں گئیں تو انہوں نے اپنے بت کا چہرہ ڈھانپ لیا حضرت سیدنا یوسف (علیہ السلام)نے فرمایا ''تم ایک پتھر سے حیا کرتی ہو (حالاں