حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ''اپنے نفس کا مُحاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور وزن کئے جانے سے پہلے اپنے اعمال کا خود وزن کرلو اور بہت بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ''۔
اور آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے حضر ت ابو موسیٰ اشعری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو لکھا کہ شدت کے وقت میں حساب سے پہلے' راحت کے وقت میں اپنے نفس کا احتساب کرو۔
چنانچہ ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ نے حضرت سیدنا کعب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے پوچھا کہ اﷲ(عزوجل) کی کتاب تورات شریف میں آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مُحاسبے کے بارے میں کیا پاتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ زمین والے کو آسمان کے حساب کرنے والے کی طرف سے ہلاکت ہے یہ سن کر آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ نے اپنا دُرّہ اٹھایا اور فرمایا ہاں مگر وہ جو اپنا احتساب خود کرے (وہ محفوظ رہے گا ) حضرت سیدنا کعب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے عرض کیا ، اے امیر المومنین (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) اسی کے ساتھ تورات میں یہی بات مذکور ہے اور درمیان میں کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہ ''مگر وہ جو اپنا احتساب خود کرے ''۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان سب باتوں میں اس طرف اشارہ ہے کہ مستقبل کے لیے بھی مُحاسبہ ہوناچاہئے۔
اسی لیے کہا گیا ہے کہ جوشخص اپنے نفس کا احتساب کرتا ہے وہ موت کے بعد کے لیے عمل کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کو کرنے سے پہلے وزن کرکے خوب سوچے اور غوروفکر کے بعد ان پر عمل پیرا ہو۔