Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
78 - 325
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ ۚۖ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اسکا نفس ڈالتا ہے ''(پارہ۲۶ ' سورہ ق' آیت ۱۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ تعالیٰ نے بطور تنبیہ ذکر فرمایا تاکہ بندہ مستقبل کے بارے میں احتیاط سے کام لے چنانچہ 

حضرت سیدنا عبادہ بن صامت (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ، شاہ بنی آدم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیں چنانچہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِذَا اَرَدْتَ اَمْرًا فَتَدَبَّرْ عَاقِبَتَہٗ فَاِنْ کَانَ رُشْدًا فَامْضِہٖ وَ اِنْ کَانَ غَیَّا فَانْتَہِ عَنْہٗ
ترجمہ: ''جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام کے بارے میں سوچو اگر وہ اچھا ہے تو اسے کرو (اور اگر)اس کا نتیجہ غلط نظر آتا ہو تو اس سے بچو'' ۔(کنز العمال، جلد۳ ص ۱۰۱، حدیث ۵۶۷۶)

کسی دانا کا قول ہے کہ اگر عقل کو خواہش پر غالب رکھنا چاہتے ہوتو خواہشات کی پیروی اس وقت تک نہ کرو جب تک ان کے انجام پر غور نہ کرلو کیوں کہ دل میں ندامت کا ٹھہرنا ، خواہش پورا نہ ہونے سے زیادہ بُرا ہے۔

ایسے ہی حضرت سیدنا لقمان حکیم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ــ''جب مومن اپنے انجام پر نظر رکھتا ہے تو ندامت سے محفوظ رہتا ہے''۔

اور کچھ ایسا ہی مضمون حضرت سیدنا شداد بن اوس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) رسول اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْاَحْمَقُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَاھَا وَ تَمَنِّیْ عَلَی اللہِ
ترجمہ: ''سمجھدار وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے اور احمق وہ 

ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے انعام کی خواہش کرے''۔

(مسند امام احمد بن حنبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ، جلد۴، ص۱۲۴، مرویات شداد بن اوس)

اپنے انجام سے غافل رہنے والوں کا یہ قول رب کائنات نے اپنے قرآن پاک میں نقل فرمایا ہے۔
Flag Counter