Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
77 - 325
ڈرائے اور اسے اس طرح نصیحت کرے جس طرح بھاگے ہوئے سرکش غلام کو نصیحت کی جاتی ہے کیوں کہ فطری طور پر نفس عبادات سے دور بھاگتا ہے البتہ وعظ و تادیب اس پر اثر کرتی ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہ کا فرمان ہے:
وَّ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾
ترجمہ کنزالایمان: ''اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے''۔

(پارہ۲۷ 'سورہ الذاریات' آیت ۵۵) 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ تمام باتیں نفس کی تربیت کا پہلا مرحلہ ہيں اور اسکا نام عمل سے پہلے محاسبہ ہے جبکہ محاسبہ کبھی عمل کے بعد ہوتا ہے اور کبھی عمل سے پہلے اور اسکا مقصد یہی ہوتا ہے کہ نفس کو اللہ (عزوجل) کا خوف دلایا جائے ۔ چنانچہ رب العزّت (عزوجل) کا فرمان عبرت نشان ہے:
وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُ ۚ
ترجمہ کنزالایمان: ''اور جان لو کہ اﷲ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو ''(پارہ۲' سورہ بقرہ ' آیت ۲۳۵)

یہ محاسبہ مستقبل کے حوالے سے ہے البتہ نفس کے اعمال کی کثرت اور مقدار میں زیادتی اور نقصان کو جانچنے کیلئے جو غور و فکر کیا جاتاہے وہ بھی محاسبہ کہلاتا ہے پس اگر بندہ اپنے دن بھر کے اعمال کو سامنے رکھے تاکہ اسے کمی بیشی کا پتہ چلے تو یہ بھی محاسبہ ہے (جسے ہم'' فکر مدینہ'' کے مدنی نام سے یاد کرتے ہیں)۔ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم جانتے ہیں کہ نفس کے خلاف جہاد، جہاد اکبر ہے چنانچہ رب قدیر (عزوجل) کا فرمان عبرت بار ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَتَبَیَّنُوۡا
ترجمہ کنز الایمان: ''اے ایمان والو جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کر لو''(پارہ۵' سورہ نسائ' آیت ۹۴)

نیز نفس کے حیلو ں پر آنکھیں بند کر کے اعتماد نہیں کیا جاسکتا بلکہ بے حد احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ نفس بہت مکّار اور فسق وفجور کی طرف مائل رہنے والا ہوتاہے اور فاسق کی خبر کے بارے میں رب کائنات (عزوجل)کا فرمان عالی شان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا
ترجمہ کنزالایمان: ''اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو'' (پارہ۲۶ ' سورہ حجرات' آیت ۶)

گویا نفس مکّار کے حیلو ں کی تفتیش شریعت کے مطابق کرنا ضروری ہے ۔
Flag Counter