Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
76 - 325
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان عبرت نشان ہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اسکے پا س ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو''۔

(پارہ ۲۶' سورہ ق ' آیت۱۸)
پیٹ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !انہی اعضاء میں پیٹ بھی ہے لہٰذا اسے حرص چھوڑنے پر مجبور کریں نیز یہ بھی ترغیب دلائیں کہ حلال اور وہ بھی بقدر حاجت کھائے،شبہے والی چیزوں اوربے جا خواہشات سے بچے اسکے علاوہ ضرورت کی مقدار ہی کو کافی سمجھے اور نفس کو بتادیں کہ اگر اس نے اس سلسلے میں مخالفت کی تو کھانا پینا ترک کر کے نفس کو سزا دی جائیگی تاکہ جس قدر اس نے خواہشات سے زیادہ حاصل کیا وہ ختم ہو جائے اسی طرح ہرعضو کے بارے میں نفس پر شرط رکھئے ان تمام کا ذکر بہت طویل ہے اور اعضاء کے گناہ اور اطاعت کو سمجھنا اتنا زیادہ مشکل نہیں ہے، اگر ہم کوشش کریں تو ان کے بارے میں آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اتنا کرنے کے بعدہمیں چاہئیے کہ اپنے نفس کو ان فرائض کی نصیحت کریں جو دن رات میں بار بار آتے ہیں پھر نوافل اور سنّتوں کے بارے میں جن پر نفس قادر ہو اور زیادہ سے زیادہ ادا کر سکے' ان نوافل وسُنن کی تفصیل ، کیفیت سب کچھ بتا ديں۔

الغرض یہ وہ شرائط ہیں جن کی روزانہ ضرورت پڑتی ہے لیکن رفتہ رفتہ نفس ان شرائط پر عمل کرنے کا عادی ہو جائے گا اور نفس ان سب کو پورا کرنے میں اس کی بات مان لے تو اب شرائط بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر بعض باتوں میں اطاعت کرے اور بعض نہ کرے تو ضرورت کے مطابق نفس پر سختی کی جائے اور اس سے شرائط کی پابندی کروائی جائے۔

لیکن یہاں ایک مشکل پیش آتی ہے کہ ہر روز کوئی نیاکام سامنے آتا اور کوئی نہ کوئی واقعہ درپیش ہوتا ہے اور اس کا م کے سلسلے میں نفس پر اللہ تعالیٰ کا حق ہوتاہے جیسا کہ کوئی آدمی دنیا کی کوئی ذمہ داری اٹھاتاہے مثلاً حکومت کرتا ہے یا تجارت یا تدریس میں مشغول ہوتا ہے ان کے ساتھ نئے نئے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں اور کوئی دن ایسے جدید واقعہ سے خالی نہیں ہوتا جس میں اسے حق خداوندی (عزوجل)کو پورا کرنے کی حاجت نہ ہو۔ 

لہٰذا بندے پر لازم ہے کہ نفس کو استقامت اور اطاعتِ حق کی تاکید کرے اور اسے بیکار رہنے کے انجام سے بھی
Flag Counter