Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
75 - 325
اعضاء کو بھی وصیت کریں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تو یہ اوقات کے حوالے سے نفس کو نصیحت ہے پھر اسے اس کے سات اعضاء ، آنکھ ، کان، زبان، پیٹ، شرمگاہ، ہاتھ اور پاؤں کے حوالے سے وصیت کریں کیوں کہ اس تجارت میں یہ اعضاء نفس کے خادم ہیں اور اُخروی تجارت کے امور ان ہی کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں ۔جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لیے ایک حصہ مقرر ہے ،یہ دروازے اس شخص کے لئے متعین ہوں گے جو اعضاء کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے پس اپنے نفس کو وصیت کریں کہ وہ ان گناہوں سے محفوظ رہے۔
آنکھ :
آنکھ کو غیر محرم کی طرف دیکھنے، کسی مسلمان کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنے یا کسی مسلمان کو حقارت کی نظر سے دیکھنے سے بچائيں بلکہ ہر فضول بات جس کی ضرورت نہ ہو، اس سے بھی بچائيں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح فضول کلام کے بارے میں پوچھے گا اسی طرح بندے سے فضول نظر کے بارے میں بھی سوال کریگا۔

پھر جب ان کاموں سے نظر کو بچالیں تو صرف اسی پر قناعت نہ کریں بلکہ اسے ان کاموں میں مشغول رکھيں جن میں اس کی تجارت اور نفع ہے اور یہ وہ امور ہیں جن کیلئے نظر کو پیدا کیا گیا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی صنعتوں کے عجائب کو عبرت کی نگاہ سے دیکھے اور اچھے اعمال کو اس نیت سے دیکھے کہ ان کی پیروی کرے ۔قرآن پاک اور سنتِ رسول  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھے اور اچھی کتابوں کا مطالعہ کرے تاکہ ان سے نصیحت اور فائدہ حاصل کرے۔ اسی طرح ایک ایک عضو کے بارے میں نفس کو تفصیل بتادیں بالخصوص زبان اور پیٹ کے بارے میں زیادہ تاکید کیجئے۔
زبان :
قدرتی طور پر زبان چلتی رہتی ہے اور حرکت کرنے میں اسے کوئی مشقت نہیں ہوتی لیکن اس کی خطائیں مثلاً ، غیبت، جھوٹ، چغلی، اپنی پاکیزگی بیان کرنا، مخلوق اور کھانے کی چیزوں کی برائی بیان کرنا، لعن طعن کرنا، دشمنوں کیلئے بد دعا کرنا، اور گفتگو میں جھگڑا کرنا اس کے علاوہ بھی زبان کے بہت بڑے بڑے جرم ہيں۔

زبان ان آفات کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہے حالانکہ اسے ذکر و تذکیر ،تکرار علم، تعلیم ،نیکی کی دعوت دینے ،برائی سے منع کرنے، لوگوں میں صلح کرانے اور اسکے علاوہ دیگر نیکیوں کیلئے پیدا کیا گیا ہے لہٰذا اپنے نفس پر شرط رکھیں کہ وہ دن بھر زبان کو ذکر کے علاوہ حرکت میں نہیں لائے گا کیوں کہ مؤمن کا بولنا ذکر، دیکھناعبرت، اور خاموشی فکر کیلئے ہوتی ہے ۔چنانچہ ،
Flag Counter