اے نفس! جان لے کہ دن رات میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے۔۔۔۔ کہ ہر بندے کیلئے دن رات میں چوبیس صندوق ایک قطار میں پھیلائے جائیں گے پھر ان میں سے ایک صندوق اس کیلئے کھولا جائے گا وہ اسے دیکھے گا کہ وہ اس کی نیکیوں کے نور سے بھرا ہوگا جو عمل ا س نے اس وقت کیا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ بہت زیادہ خوش ہوگا کیوں کہ یہ انوار ربّ غفّار(عزوجل)تک پہنچنے کا وسیلہ ہیںَ۔اگر وہ خوشی دوزخ والوں پر تقسیم کی جائے توان کو مدہوش کردے۔
اورجب اس کیلئے ایک دوسرا سیاہ تاریک صندوق کھولا جائے گا تو اس کی بدبو پھیلے گی اور اس کا اندھیرا چھا جائے گااور یہ اس وقت کا صندوق ہو گا جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو گی تو اسے اس قدر خوف و دہشت کا سامناکرنا پڑے گا کہ اگر اسے اہل جنت پر تقسیم کیا جائے تو ان پر اس کی نعمتیں اور خوشی کے باوجود پریشانی داخل ہو جائے پھر اس کیلئے ایک او ر صندوق کھولا جائے گا جو خالی ہوگا۔ جس میں نہ تو کوئی خوشی کاسامان ہوگا اور نہ پریشانی کا ، یہ وہ گھڑی ہو گی جس میں وہ سویا رہا یا غافل رہا یا دنیا کے کسی مباح کام میں مشغول رہا ۔اسے اس کے خالی ہونے کا ایساغم ہوگا جیسے کسی بڑے نفع پر قادر شخص اور بڑے بادشاہ کو ہوتاہے کیوں کہ اس نے اس میں سستی کی حتی کہ وہ وقت ہاتھوں سے نکل گیا ۔یہی نقصان اور حسرت تمہیں کافی ہے۔
اسی طرح اس کے سامنے زندگی بھر کے صندوق کھولے جاتے ہیں لہٰذا آج محنت کرلے اور اپنے نامہ اعمال کو ان خزانوں سے بھرلے جو تیری سلطنت کا باعث ہیں۔ سستی ، آرام طلبی اور کاہلی کی طرف نہ جا اس طرح تو علیّین کے درجات سے محروم رہ جائے گا ۔ جو دوسروں کو حاصل ہونگے اور تیرے پاس نہ ختم ہونے والی حسرت کے سوا کچھ نہیں رہے گا ، حتّٰی کہ اگر تو جنت میں داخل ہو گیا تب بھی اس نقصان اور حسرت کی تکلیف برادشت نہیں کر سکے گا اگرچہ وہ جہنم کے عذاب سے کم ہوگی۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ گناہ گار کی بخشش ہوگی لیکن کیا وہ نیکی کرنے والوں کو حاصل ہونے والے ثواب سے محروم نہیں ہوگا انہوں نے اسی نقصان اور حسرت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ چنانچہ رب قدیر(عزوجل)کا فرمان ہے: